’تاخیر کی وجہ سمجھ سے باہر ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق امریکی وزیر خارجہ کولن پاؤل نے کہا ہے کہ وہ یہ بات سھمجنے سے قاصر ہیں کہ جنوبی امریکی میں طوفان سے متاثرہ لوگوں کو امداد بہم پہنچانے میں دیر کیوں کی گئی۔ کولن پاؤل نے کہا کہ نیو اورلینز کے رہائشیوں کو بروقت امداد نہ پہنچانے کی وجہ نسلی تعصب نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ سیاہ فام لوگوں کا غریب ہونا ہے۔ دریں اثناء پولیس اور نیشنل گارڈز نے نیو اورلینز میں موجود لوگوں کو وہاں سے زبردستی نکالنا شروع کر دیا ہے۔ نیواورلینز میں بروقت امداد نہ پہنچانے کے الزامات کے بعد صدر بش کی مقبولیت کا گراف اور نیچے چلا گیا ہے اور امریکی شہریوں کی دو تہائی اکثریت کاخیال ہے کہ بش انتظامیہ کو طوفان میں پھنسے ہوئے لوگوں کی بروقت اور زیادہ مدد کرنی چاہیے تھی۔ نیو اورلینز میں پھنسے ہوئے سیاہ فام لوگوں کی دوتہائی اکثریت یہ رائے کی حامل ہے کہ اگر وہ سیاہ فام نہ ہوتے تو ان سے یہ رویہ روا نہ رکھا جاتا۔ پیو ریسرچ سینٹر کی ایک تحقیق کے مطابق آبادی کا دو تہائی حصہ اس خیال کا حامی ہے کہ صدر بش کو نیو اورلینز میں پھنسے ہوئے لوگوں کے ساتھ زیادہ ہمدردانہ رویہ رکھنا چاہیے تھا۔ کم از کم دس ہزار لوگوں نے اپنے گھر بار چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ جو لوگ اپنے آپ شہر سے نکلنے کے تیار نہیں ہیں پولیس اور نیشنل گارڈز ان کو ہتکڑیاں لگا کر شہر سے باہر لے جا رہے ہیں۔ لوگوں کو شہر سے نکالنے کا فیصلہ خطرناک بیماریاں پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر لوگوں کو وہاں سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||