BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 January, 2007, 19:21 GMT 00:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی انتظامیہ میں اہم تبدیلیاں
وائس ایڈمیرل مائیک میکونیل
بحریہ کے وائس ایڈمیرل مائیک میکونیل کی نامزدگی کی منظوری ابھی کانگریس سے ہونا باقی ہے
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے امریکی بحریہ کے ریٹائرڈ وائس ایڈمرل مائیک میکونیل کو نیا نیشنل انٹیلیجنس ڈائریکٹر منتخب کیا ہے۔

وائس ایڈمرل میکونیل، جان نیگروپونٹے کی جگہ امریکہ کی سولہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کے سربراہ کی حیثیت سے کام کریں گے جبکہ جان نیگروپونٹے امریکہ کی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس کے نائب کی حیثیت سے کام کریں گے۔

یہ تبدیلیاں اس وقت سامنے آئی ہیں جب امید کی جا رہی ہے کہ کچھ ہی روز بعد صدر بش عراق میں جاری تشدد سے نمٹنے کے لیے اپنی نئی حکمتِ عملی کا اعلان کریں گے۔

امریکہ کی پالیسی میں یہ تبدیلی حال ہی میں عراق سٹڈی گروپ کی طرف سے جاری ہونے والی رپورٹ کے بعد متوقع ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عراق میں امریکہ کی موجودہ پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔ اس کے ساتھ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کا الزام بھی وائٹ ہاؤس پر لگایا گیا ہے۔

بی بی سی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار نک چائلڈز کا کہنا ہے کہ مختلف اہم عہدوں پر نئے چہروں کے آنے سے اس حقیقت پر پردہ ڈالا جائے گا کہ صدر بش سے عراق پر پالیسی میں جو تبدیلیاں متوقع ہیں وہ اتنی بنیاد پرست نہیں ہوں گی جتنی کہ کئی لوگ امید کر رہے ہیں۔

 عراق پر صدر بش کی نئی پالیسی کے تحت بیس ہزار نئے امریکی فوجیوں کو عراق میں تعینات کیا جائے گا۔ یہ فوجی بغداد کے گردونواح میں تعینات کیے جائیں گے اور ان کا کام وہاں پر موجود انتہا پسندوں کو غیر مسلحہ کرنا ہو گا۔
بی بی سی کی نامہ نگار سارہ مورس

ان اہم عہدوں میں تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے صدر بش کا کہنا تھا: ’یہ تمام لوگ اپنے نئے عہدوں پر زیادہ اچھے طریقے سے کام کر سکیں گے اور یہ ضروری ہے کہ یہ سب لوگ جلد از جلد اپنے نئے عہدوں کی ذمہ داریاں سنبھال لیں‘۔

ان نئی نامزدگیوں کی منظوری ابھی کانگریس سے ملنی ہے جس کا پہلا اجلاس جمعرات کو ہوا تھا۔ ڈیموکریٹس نے بارہ سال کے بعد دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کیا ہے۔صدر بش کا کہنا ہے: ’مجھے امید ہے کہ ان لوگوں کو جلد از جلد اپنے عہدوں پر کانگریس کی طرف سے منظوری مل جائے گی‘۔

امریکی حکام کے مطابق صدر بش امریکہ کی فوجی قیادت میں بھی اہم تبدیلیاں کریں گے۔ یہ تبدیلیاں ان کی عراق پر نئی پالیسی کے نتیجے میں سامنے آ رہی ہیں۔اگرچہ وائٹ ہاوس اور پینٹاگون نے ابھی تک کی متوقع اہم تبدیلیوں کی تصدیق نہیں کی ہے لیکن امریکی میڈیا اور انتظامیہ کے مطابق یہ تبدیلیاں کچھ اس طرح ہوں گی۔

جان نیگروپونٹے سیکریٹری آف سٹیٹ کونڈولیزا رائس کے نائب کی حیثیت سے کام کریں گے۔

ایڈمرل ولیم فیلون جنرل جان ابی زید کی جگہ عراق اور افغانستان کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ہوں گے، لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ پیٹرائس، جنرل جارج کیسی کی جگہ عراق میں گراؤنڈ کمانڈ کے سربراہی سنبھالیں گے جبکہ عراق میں تعینات امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کو جان بولٹن کی جگہ اقوام متحدہ میں امریکہ کا نیا سفیر نامزد کیا جا ئے گا۔

واشنگٹن میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار سارہ مورس کا کہنا ہے کہ عراق پر صدر بش کی نئی پالیسی کے تحت بیس ہزار نئے امریکی فوجیوں کو عراق میں تعینات کیا جائے گا۔ یہ فوجی بغداد کے گردونواح میں تعینات کیے جائیں گے اور ان کا کام وہاں پر موجود انتہا پسندوں کو غیر مسلح کرنا ہو گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد