امریکی اٹارنی جنرل مستعفی ہوگئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اٹارنی جنرل البرٹوگونزالز نے آٹھ امریکی وکلاء کی برطرفی کے حوالے سے استعفٰی کے مطالبے پر باقاعدہ طور پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ پیر کو ایک مختصر پریس کانفرنس میں البرٹو گونزالز نے کہا کہ’میرے لیے محکمۂ قانون کی سربراہی ایک اعزاز تھا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صدر بش سے اتوار کو ملاقات میں اپنا استعفٰی پیش کیا جو سترہ ستمبر سے نافذ العمل ہوگا۔ یاد رہے کہ کانگریس ممبران نے اٹارنی جنرل پر وفاقی وکلاء کی برطرفی کے معاملے میں اپنے عہدے کے ناجائز استعمال کے الزامات عائد کیے تھے اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ البرٹو ان الزامات سے انکار کرتے آئے ہیں۔ امریکی صدر جارج بش نے پیر کو البرٹو گونزالز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کئی ماہ تک غیر منصفانہ رویے کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے نام پر سیاسی وجوہات کی بناء پر کیچڑ اچھالی گئی۔صدر بش کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ مسٹر گونزالز نے دہشتگردی کے خئلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا اور اپنے ملک کو محفوظ بنانے کے لیے انتھک کوشش کی۔ البرٹو گونزالز اس وقت سے صدر بش کے ساتھ ہیں جب وہ ٹیکساس کے گورنر تھے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے جیمز کمارسوامی کے مطابق گونزالز کا مشار صدر بش کے معتمد اور قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے تاہم ان کی شخصیت متعدد تنازعات کا شکار رہی ہے۔ وکلاء کی برطرفی کے علاوہ البرٹوگونزالز کا نام گوانتانامو بے کے قیدیوں کے حوالے سے اصول وضع کرنے اور ایک خفیہ فوٹ ٹیپنگ پروگرام کی اجازت دینے کے حوالے سے بھی لیا جاتا رہا ہے۔ گونزالز اس ماہ میں اپنے عہدے سے الگ ہونے والے دوسرےاہم امریکی عہدیدار ہیں ۔ اس سے قبل اگست کے اوائل میں صدر بش کے معتمد ترین مشیر کارل روو نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا جبکہ مئی میں ورلڈ بنک کے سربراہ پال ولفووٹز نے ایک سکینڈل کے بعد اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا تھا۔ | اسی بارے میں صدر بُش کے پرانے ساتھی مستعفی13 August, 2007 | آس پاس عالمی بنک کےصدر، استعفے کا اعلان 18 May, 2007 | آس پاس نائن الیون: جارج ٹینٹ پر تنقید22 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||