 | | | احتسابی ادارے جارج ٹینٹ کی کارکردگی کا جائزہ لیں: جان ہیلگرسن |
امریکی خفیہ ادارے سنٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کی ایک انکوائری رپورٹ میں ادارے کے سابق سربراہ جارج ٹینٹ پر تنقید کی گئی ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی نائن الیون سے قبل القاعدہ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ سی آئی اے کے انسپکٹر جنرل نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’ایجنسی اور اس کے افسر اپنی ذمہ داریاں اطمینان بخش طریقے سے نبھانے میں ناکام رہے۔‘ یہ رپورٹ جون دو ہزار پانچ میں تحریر کی گئی اور اسے خفیہ رکھا گیا۔ تاہم حال ہی میں کانگریس نے اسے سامنے لانے کا حکم جاری کیا ہے۔ رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے جارج ٹینٹ نے کہا ’انسپکٹر جنرل مکمل غلط ہیں‘۔ اپنے دور میں ٹینٹ کو صدر بش کی مکمل حمایت حاصل رہی، تاہم سال دو ہزار چار میں انہوں نے ’ذاتی وجوہات‘ کو وجہ بناتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔  | کوئی غلطی نہیں پکڑی گئی  انسپکٹر جنرل جان ہیلگرسن کی سربراہی میں کام کرنے والی کمیٹی کو ایسی کوئی خامی نظر نہیں آئی جس کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ اگر وہ نہ ہوتی تو ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر گیارہ ستمبر دو ہزار ایک میں ہونے والے حملوں کو روکا جا سکتا تھا  |
انسپکٹر جنرل جان ہیلگرسن کی سربراہی میں کام کرنے والی کمیٹی کو ایسی کوئی خامی نظر نہیں آئی جس کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ اگر وہ نہ ہوتی تو ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر گیارہ ستمبر دو ہزار ایک میں ہونے والے حملوں کو روکا جا سکتا تھا۔ لیکن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے خفیہ اداروں کے پاس القاعدہ سے نمٹنے کا کوئی جامعہ منصوبہ نہیں تھا۔ رپورٹ کے مطابق ’اس حوالے سے کسی حکمت عملی کے نہ ہونے کی ذمہ داری بلحاظ عہدہ جارج ٹینٹ پر عائد ہوتی ہے۔‘ جان ہیلگرسن نے احتسابی اداروں سے کہا ہے کہ وہ ٹینٹ کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔ اندرونی طور پر جب یہ رپورٹ جاری کی گئی تھی تو سی آئی اے کی قیادت نے ایسے کسی (احتسابی) قدم کی مخالفت کی تھی۔ |