CIA کے خلاف عدالتی کارروائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ وہ مشتبہ دہشتگردوں کو امریکی قانونی اداروں کی حدود سے باہر لے جانے کے عمل کو روکنے کے لیے سی آئی اے کو عدالت میں لے جائے گی۔ امریکن سول لبرٹیز یونین نامی تنظیم کے مطابق مشتبہ قیدیوں کو امریکی قانونی حدود سے باہر لے جا کر خفیہ ادارے نے امریکی اور بین الاقوامی قوانین دونوں سے روگردانی کی ہے۔ ادھروزیرخارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ وہ پیر کو یورپ کے دورے پر جانے سے پہلے ان تازہ ترین رپورٹوں پر تبصرہ کریں گی جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ سی آئی اے نے امریکہ کی جغرافیائی حدود سے باہر قید خانے بنا رکھے ہیں۔ کونڈولیزا رائس کے مطابق وہ یورپی یونین کے اس خط کا جواب دیں گی جس میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے نے بیرون ممالک خاص طور پر مشرقی یورپ میں خفیہ قید خانے بنائے ہوئے ہیں۔ امریکن سول لبرٹیز یونین نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ وہ سی آئی اے کے خلاف مجـوزہ قانونی چارہ جوئی میں یہ موقف اختیار کرے گی کہ ادارے نے اپنے ایک ایجنٹ کو ایک معصوم شخص کو اغوا کرنے کے بعد بے حوش کرنے اور افغانستان میں سی آئی اے کی ایک خفیہ جیل میں پہنچانے کی منظوری دے کر امریکی اور عالمی انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کی ہے۔‘ انسانی حقوق کی مذکورہ تنظیم نے اغوا کیے جانے والے شخص کا نام اور قومیت نہیں بتائی تاہم اس کا کہنا ہے کہ یہ شخص اگلے ہفتے ایک پریس کانفرنس میں سی آئی اے خلاف الزامات کی تفصیل بتائے گا۔ سی آئی اے کے علاوہ تنظیم اس غیر سرکاری ادارے کا نام بھی منظر عام پر لائے گی جس کے بارے میں اس کا دعٰوی ہے کہ وہ خفیہ ایجنسی کو اغوا کنندگان کو ایک ملک سے دوسرے ملک لے جانے کے لیے ہوائی جہاز مہیا کرتا رہا ہے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار ایڈم بروکس کا کہنا ہے کہ سی آئی کے خلاف قانونی چارہ جوئی والے معاملے نے ہلچل مچا دی ہے۔ سی آئی اے کی قید میں لیے جانے والے افراد میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ پکڑنے کے بعد انہیں شام اور مصر لے جایا گیا تھا جہاں ان پر تشدد کیا گیا تھا۔ نامہ نگار کے مطابق امریکی حکومت اور اس کے خفیہ اداروں کا کہنا ہے کہ وہ تمام خفیہ کارروائیاں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کرتے ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کے وہ اپنے خلاف الزامات کا بھرپور دفاع کریں گے۔ امریکی اداروں کے اس موقف کے بارے میں ایڈم بروک کا خیال ہے کہ ایسا کرنا مشکل ہوگا کیونکہ خفیہ ادارے کبھی بھی یہ نہیں چاہیں گے کہ ان کے افسران کو کھلی عدامت میں اپنی خفیہ کارروائیوں کا دفاع کرنا پڑے اور یہ کارروائیاں عام لوگوں کے سامنے آئیں۔ | اسی بارے میں سی آئی اے: یورپی پارلیمنٹ کا غصہ02 December, 2005 | آس پاس خفیہ جیلیں: امریکہ تحقیق کرے گا29 November, 2005 | آس پاس صدام دور جیسا حال ہے: علاوی27 November, 2005 | آس پاس تشدد ہوا پر اتنا نہیں: عراقی وزیر17 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||