سرحد:افغان مہاجرین کیمپ بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے صوبہ سرحد میں جلوزئی کے مقام پر افغان مہاجر کیمپ کو جمعہ کے روز سےمکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم حکام نے قالین بنانے کی صنعت سے وابستہ چھ سو سے زائد خاندانوں کو کیمپ میں رہنے کی اجازت دی ہے۔ افغان کمشنریٹ کے ایک اہلکار صدیق خان نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبہ سرحد کے ضلع نوشہرہ میں قائم جلوزئی کیمپ سے مہاجرین کی افغانستان واپسی کا جوعمل پانچ مارچ سے شروع کیا گیا تھا وہ جمعہ کے روز اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ ان کے بقول اس دوران کیمپ میں مقیم اسی ہزار سے زائد افراد میں سےچوہہتر ہزار رضاکارانہ طور پر وطن واپس جا چکے ہیں۔ صدیق خان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی اور مرکزی حکومت کی ہدایت پر انہوں نے قالین بافی کی صنعت سے وابستہ چھ سو سولہ ہنر مند خاندانوں کو کیمپ میں رہنے کی اجازت دی ہے کیونکہ بقول ان کے حکومت ان افراد کے لیے قالین بافی کی فیکٹری قائم کرنا چاہتی ہے جہاں پروہ پاکستانیوں کو قالین بافی کی تربیت فراہم کریں گے۔ ان کے مطابق چھ سو سولہ میں سے اڑتیس خاندان میانوالی میں قائم متبادل کیمپ منتقل ہونا چاہ رہے ہیں جبکہ باقی افراد کو حکومت کے اگلے اقدام تک جلوزئی کیمپ میں رہنے کی اجازت دیدی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیمپ کی زمین مقامی لوگوں کی ملکیت ہے لہذا مکمل مسماری کے بعد اسے مالکان کے سپرد کر دیا جائےگا۔ تاہم مہاجرین کے لیے قائم کیے جانے والے سکول، صحت کے بنیادی مراکز اور ٹیوب ویلز کو ضلعی حکومت کے حوالے کیا گیا ہے تاکہ مقامی لوگ ان سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں۔
انیس سو اسی میں قائم ہونے والا جلوزئی مہاجر کیمپ کو افغانوں نے گزشتہ سال حکومتی ڈیڈ لائن کے باوجود خالی کرنے سے انکار کر دیا تھا تا ہم بعد میں مہاجرین دو ہزارآٹھ کےمارچ کے مہینے میں انخلاء پر رضامند ہوگئے تھے۔ جلوزئی کیمپ افغان جہاد کے دوران عرب جنگجوؤں اور افغانستان کے سات جہادی تنظیموں کی سرگرمیوں کا اہم مرکز تھا۔اس کیمپ میں القاعدہ کے مبینہ بانی عبداللہ عظام نے ایک ’جہاد یونیورسٹی‘ بھی قائم کی تھی جس میں جہاد سے متعلق نوجوانوں کو فکری تر بیت دی جاتی رہی اور خود عبداللہ عظام، خالد شیخ کے بھائی عابد شیخ اور شیخ تمیم جیسے عرب مجاہدین رہنماء جلوزئی کیمپ میں سپرد خاک ہیں۔ حکومت پاکستان نے پچھلے سال پشاور میں واقع گڑھی کیمپ کو بھی بند کردیا تھا ۔اس کیمپ کی بندش کے بعد زیادہ تر مکانات کو مسمار کر دیا گیا ہے اور وہاں پر ایک بورڈ نصب کیا گیا ہے جس پر لکھا گیا ہے کہ’یہ جگہ آرمی کی ملکیت ہے یہاں کسی قسم کی ناجائز تجاوزات یا دخل اندازی سختی سے ممنوع ہے‘۔ تاہم زمین کی ملکیت پر بعض غیر فوجی افراد کا بھی دعویٰ ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ دو ہزار نو تک پاکستان میں افغان مہاجرین کے تمام کیمپ بند کردیے جائیں گے۔ تاہم مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر نے کہا کہ دو ہزارنو تک ان تمام کیمپوں کو بند کرنا ممکن نہیں ہے۔ پاکستان میں تقریباً دو ملین افغان مہاجرین آباد ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرکیمپ مبینہ طور پر شدت پسندوں کی پناہ گاہ بن چکے ہیں۔ کیمپ کے رہائشی اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں پہلی قرارداد سی آئی اے کے خلاف01 April, 2008 | پاکستان اٹامک کمیشن کےاہلکار ’اغوا‘11 February, 2008 | پاکستان صوبہ سرحد میں مظاہرے اور دعائیں11 July, 2007 | پاکستان جلوزئی: انخلاء کی کوششیں، کشیدگی16 April, 2008 | پاکستان جلوزئی کیمپ، یکم مارچ سے بند28 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||