BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 April, 2008, 13:20 GMT 18:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جلوزئی: انخلاء کی کوششیں، کشیدگی

جلوزئی کیمپ
کیمپ کے مکینوں نے دوکانوں کی مسماری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑک پر ٹائر جلائے اور پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا تھا
پاکستان میں صوبہ سرحد کے سب سے بڑے افغان مہاجر کیمپ جلوزئی کو خالی کرانے کےلئے پولیس اور ایف سی اہلکاروں کی طرف سے کیمپ کے اردگرد قائم چار سو کے قریب دکانوں کی مسماری کے بعد علاقے میں حالات ایک بار پھر کشیدہ ہوگئے ہیں۔

ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹر برائے افغان مہاجرین محمد صدیق نے بی بی سی کو بتایا کہ کیمپ کے اردگرد تمام خالی دکانوں کو مسمار کردیا گیا ہے جبکہ باقی ماندہ کھوکھے مہاجرین نے خود رضاکارانہ طورپر ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیمپ بند کرانے کےلئے حکومت اور اقوام متحدہ کے ادارے کی جانب سے دی گئی مہلت گزشتہ روز ختم ہوچکی ہے اور اس سلسلے میں تمام مہاجرین کو پہلے ہی آگاہ کیا جاچکا ہے۔

منگل کو کیمپ کے مکینوں نے دکانوں کی مسماری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑک پر ٹائر جلائے اور پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا تھا۔ عینی شاہدین کا کہناہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپ میں پولیس اور مہاجرین سمیت تین افراد زخمی ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ نے کیمپ کے اردگرد پولیس اور ایف سی کے اہلکاروں کو بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا ہے۔

ادھر مہاجرین کےلئے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر نے پاک افغان شاہراہ کی بندش کی وجہ سے جلوزئی کیمپ سے افغان مہاجرین کا انخلاء عارضی طورپر معطل کردیا ہے۔ اب تک کیمپ سے درجنوں افغان خاندانوں کو افغانستان منتقل کیا جاچکا ہے۔

جلوزئی مہاجر کیمپ 1980 میں قائم کیا گیا تھا۔ سن اسی کی دہائی میں اس کیمپ میں رجسٹرڈ مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ حکومتِ پاکستان نے سکیورٹی وجوہات اور افغان مہاجرین کے کیمپوں میں مبینہ طور پر طالبان کی سرگرمیوں کی وجہ سے جلوزئی سمیت چار کیمپوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ صوبہ سرحد میں قائم دو کیپموں میں سےکچھ گھڑی کا ایک کیمپ گزشتہ سال بند کیا جا چکا ہے۔

جلوزئی کیمپ افغان جہاد کے دوران عرب جنگجوؤں اور افغانستان کی سات جہادی تنظیموں کی سرگرمیوں کا اہم مرکز تھا۔ کیمپ میں القاعدہ کے مبینہ بانی عبداللہ عظام نے ایک ’جہاد یونیورسٹی‘ بھی قائم کر رکھی تھی جس میں جہاد سے متعلق نوجوانوں کو فکری تر بیت دی جاتی رہی اور خود عبداللہ عظام، خالد شیخ کے بھائی عابد شیخ اور شیخ تمیم جیسے عرب مجاہدین رہنما جلوزئی کیمپ میں دفن ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد