BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 April, 2007, 14:44 GMT 19:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پناہ گزینوں اور پولیس میں جھڑپ

افغان
غیر رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کو پندرہ اپریل تک وطن روانہ کر دیا جائے گا
کوئٹہ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مرکز کے باہر احتجاج کرنے والے غیر رجسٹرڈ افغانیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں ایک انسپکٹر سمیت تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

تصادم اس وقت شروع ہوا جب مشتعل مظاہرین نے اقوام متحدہ کے دفتر پر پتھراؤ کیا تو انہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

پاکستان میں آباد غیر رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کو پندرہ اپریل تک واپس بھیجا جائے گا، جس کے بعد پاکستانی حکومت غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افغانیوں کے خلاف فارن ایکٹ کے تحت کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے حکام کے مطابق پتھراؤ ان افغانیوں نے کیا ہے جنہیں ادارہ نے وطن واپسی کے لیے امداد فراہم کرنے سے معذوری کا اظہار کیا تھا۔

انکار پر پتھراؤ
 پتھراؤ ان افغانیوں نے کیا ہے جنہیں ادارہ نے وطن واپسی کے لیے امداد فراہم کرنے سے معذوری کا اظہار کیا تھا
اقوام متحدہ کا ادارہ

جمعرات کی صبح افغانیوں نے کوئٹہ چمن شاہراہ کو کچلاک کے قریب بند کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے مرکز پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ جس پر پولیس کو طلب کیا گیا۔

مظاہرین سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ وہ واپس اپنے ملک جانا چاہتے ہیں لیکن ان کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔

ایک خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ اس کے چھ بچے ہیں اور شوہر بیمار ہیں، لیکن اس کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ خاتون نے تصویریں اور کارڈ دکھاتے ہوئے کہا ’خدا کے لیے میری مدد کرو میں اپنے وطن جانا چاہتی ہوں وہیں روزی روٹی کا کوئی انتظام کر لوں گی‘۔

افغانیوں نے کہا کہ وہ کئی روز سے یہاں موجود ہیں پانی اور خوراک کی کمی ہے بچے بھوک سے رو رہے ہیں لیکن انہیں افغانستان واپس بھجوانے کے لیے اقدامات نہیں کیے جا رہے۔

افغانستان واپس جانے والے افراد کو فی کس سو ڈالر دیے جا رہے ہیں

اقوام متحدہ کا ادارہ افغانستان واپس جانے والے افراد کو فی کس سو ڈالر فراہم کر رہا ہے اور ایک خاندان میں دس سے پندرہ افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے مرکز کے باہر اپنے کیمپ لگا رکھے ہیں۔

اس بارے میں یو این ایچ سی آر کی تعلقات عامہ کی افسر دنیا اسلم خان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ان میں ایسے لوگ ہیں جو دوسری مرتبہ امداد حاصل کرنے آئے ہیں اور ایسے بھی ہیں جو خاص افغانستان سے یہ امداد لینے کچھ ہی روز پہلے آئے ہیں۔

اس سال مارچ سے اب تک پاکستان بھر سے کوئی ایک لاکھ چالیس ہزار افغان پناہ گزینوں کو واپس بھجوایا گیا ہے، جن میں سے چھبیس ہزار بلوچستان اور ایک لاکھ سے زائد پناہ گزینوں کو صوبہ سرحد سے روانہ کیا گیا ہے۔

افغان پناہ گزینوں کی رجسٹریشنپاکستان میں افغان
پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کا آخری دن
افغانستان کا نقشہپناہ گزینوں کوپیغام
’افغانستان آپ کا گھر ہے، خوش آمدید‘
افغان پناہ گزینمہاجرین کا انداج
سست روی کا شکار
افغان مہاجرینافغان پناہ گزین،
مردم شماری کے لیئے پاکستان میں مہم کا آغاز
muhajirوطن واپسی کا اتظار
افعان مہاجرین کو وطن کی یاد ستاتی ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد