افغان مہاجرین کی واپسی میں تیزی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں کو اکتیس اگست تک بند کرنے کی مہلت کے خاتمے کے وقت کے قریب آنے کی وجہ سے واپسی کا عمل تیز ہوگیا ہے۔ منگل کے روز جاری ایک بیان میں یو این ایچ سی آر کا کہنا تھا کہ کرم ایجنسی میں پیر تک تیرہ ہزار جبکہ باجوڑ میں تین سو افغان پناہ گزین واپس لوٹ چکے ہیں۔ ادارے کے مطابق کرم میں تیس جبکہ باجوڑ میں تین ہزار افغان باشندوں نے واپسی کے لیے اندراج کروایا ہے۔ ادھر افغان حکومت نے پاکستان سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل بھی کی تھی۔ اس سال مارچ میں کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق کُرم ایجنسی میں قائم کیمپوں میں ستر ہزار جبکہ باجوڑ میں بتیس ہزار پناہ گزین مقیم ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً ستر ہزار افغان کیمپوں سے باہر بھی رہ رہے ہیں۔ کُرم اور باجوڑ میں کیمپوں کے بند ہونے سے قبائلی
اس علاقے میں پاکستان فوج القاعدہ اور طالبان کے حامیوں کے خلاف سرگرم ہے۔ اس انخلاء سے اسے علاقے پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔ اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ وہ بھی اس فیصلے کی تائید کرتی ہے کیونکہ اس کے لیے اس علاقے میں امداد مہیا کرنا مشکل تھا۔ جو افغان واپس نہیں جانا چاہتے انہیں حکومت پاکستان نے ملک کے اندر کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر حکومت پاکستان اسلام آباد میں مقیم افغانوں کو بھی دس ستمبر تک وہاں سے چلے جانے کا حکم دے چکی ہے۔ باجوڑ میں چند افغانوں نے واپس نہ جانے کی دھمکی دی تھی۔ ان کا موقف تھا کہ وہ اپنے کاروبار اور جائیداد کا اتنے قلیل عرصے میں انتظام نہیں کر سکتے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||