افغان باشندوں میں جوش وخروش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان سے دور پاکستان کے شہروں اور مہاجرین بستیوں میں مقیم افغان باشندوں میں بھی افغانستان کی تاریخ کے پہلے انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا جذبہ واضع نظر آ رہا ہے۔ ہفتے کی صبح پونے سات بجے، پشاور کے مغربی مضافات میں واقعے کچا گڑھی کیمپ میں ایک مٹی کے بنے سکول کی عمارت کے صدر دروازے کے پاس پولیس کے علاوہ درجنوں بڑھے بوڑھے اور جوان ووٹنگ ڈالنے کے انتظار میں قطار بند تھے۔ ان میں جلال آباد سے تعلق رکھنے والے ساٹھ سالہ بابا گل بھی شامل تھا۔ ان سے پوچھا کہ اتنی جلدی کیا ہے تو انہوں نے کہا ایک تو رش سے بچنا دوسرا وقت پر اپنے کام پر پہنچنا۔ ان کی زندگی میں یہ پہلا موقعہ ہے جب وہ ووٹ کا حق استعمال کر رہے ہیں۔ ان کی خوشی ان کے سفید داڑھی سے سجے چہرے سے عیاں تھی۔ بابا گل کا کہنا تھا: ’یہ پہلی مرتبہ ہے کہ میں اپنے ملک کے رہنما کے انتخاب میں اپنی رائے دے رہا ہوں۔ یہ میرے لیے ناقابل فراموش تجربہ ہے۔ میری خواہش ہے کہ میرے ووٹ سے میری مرضی کی تبدیلی آئے۔‘ سکول میں افغان پولنگ عملے کے آخری منٹ تک تیاریوں میں جُتے رہنے کی وجہ سے پولنگ بیس منٹ تاخیر سے شروع ہوئی۔ عملے کے ارکان پولنگ بوتھوں کے باہر نمونے کے بیلٹ پیپرز اور معلوماتی پوسٹرز آویزاں کرتے رہے۔
اس پولنگ سٹیشن کے انچارج عارف اللہ نے بتایا کہ یکم سے چار اکتوبر تک اس سسٹیشن پر تین سو سے زائد پناہ گزین اندراج کروا چکے ہیں۔ انہیں امید تھی کہ اندراج کی طرح پولنگ بھی پرامن اور منظم انداز میں ہوگی۔ قریبی ہی اس کیمپ میں لڑکیوں کے ایک سکول پہنچے تو افغان خواتین کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔ اس پولنگ سٹیشن کی خاتون انچارج نے بتایا کہ انہوں نے آٹھ سو خواتین کا اندراج کیا تھا۔ خواتین کے شوق کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ایک ساٹھ سالہ افغان عورت ملکی جان کا کہنا تھا کہ وہ اندراج میں بھی پہلے رہیں اور ووٹ ڈالنے میں بھی۔ ’میری تمنا ہے کہ میرے ملک میں بہتری جلد آئے۔’ پولنگ سٹیشنوں کے باہر مناسب تعداد میں پولیس تعینات کی گئی تھی۔ لیکن ووٹروں میں بڑی تعداد بظاہر کم عمر ووٹروں کی بھی تھی۔ سید رحمان جوکہ شکل وصورت سے ہرگز اٹھارہ برس کے نظر نہیں آتے تھے بھی ہاتھ میں اندراج کی پرچی لئے ووٹ دینے کے منتظر تھے۔ اس کا کہنا تھا: ’میں نے اندراج شوق کے لئے نہیں بلکہ پنے ملک کی بہبود میں شریک ہونے کے لیے کیا۔’
کچا گڑھی کیمپ کی آبادی گزشتہ تین برسوں میں ساٹھ سے پینسٹھ فیصد کم ہوئی ہے۔ یہ لوگ واپس وطن لوٹ چکے ہیں۔ لیکن جو باقی ہیں وہ اب بھی اپنے ملک کے حالات میں مزید بہتری کے خواہاں ہیں۔ پشاور کے ٹاون اور حیات آباد کے شہری علاقوں میں بھی انتخاب کے نتائج پہلے سے واضع ہونے کے باوجود کافی گہما گہمی تھی۔ افغانستان کے تین رنگوں والے پرچموں سے سجی گاڑیاں ووٹروں کو لانے لیجانے میں مصروف نظر آئیں۔ ووٹنگ کے خاتمے پر حکام کے مطابق پلاسٹک کے بیلٹ باکس سیل کر کے کابل روانہ کر دئے جائیں گے جہاں ان کی گنتی ہوگی اور نتائج کا اعلان ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||