BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 August, 2007, 11:50 GMT 16:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہاجر کیمپ سے زبردستی انخلا

فائل فوٹو
کچاگھڑی کے افغان مہاجر کیمپ کو گزشتہ ماہ بند کیا گیا
پاکستان میں صوبہ سرحد کے سب سے بڑے افغان مہاجر کیمپ جلوزئی کو خالی کرانے کےلیے پولیس کی سخت سکیورٹی میں کیمپ کے باہر قائم ایک سو سے زائد کیبن اور کھوکھے مسمار کر دیےگئے ہیں جبکہ دکانیں خالی کرانے کے لیے تین دن کی مہلت دی گئی ہے۔

جلوزئی پولیس چوکی کے اہلکار بدن خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی صبح سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری کی موجودگی میں کیمپ کے باہر سڑک کے کنارے قائم ایک سو سے زائد کیبن اور کھوکھے ہٹا دیے گئے ہیں۔

ان کے مطابق جلوزئی بازار کے دکانداروں کو بھی تین دن کی مہلت دی گئی ہے کہ اس دوران وہ دکانیں خالی کردیں۔ بصورتِ دیگر انتظامیہ آپریشن کر کے دکانیں خالی کرائے گی۔

حکومتِ پاکستان اور مہاجرین کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر نے اس کیمپ کو خالی کرانے کے لیے اکتیس اگست کی ڈیڈ لائن دی ہے تاہم کیمپ کی بیشتر آبادی علاقہ چھوڑنے کےلیے تیار نہیں ہے۔ مہاجرین کا مطالبہ ہے کہ رمضان المبارک اور افغانستان میں آنے والی سخت سردی کے پیشِ نظر اس مہلت میں توسیع کی جائے۔

فائل فوٹو
کیمپ کی بیشتر آبادی علاقہ چھوڑنے کےلیے تیار نہیں ہے

ایک مقامی صحافی زاہد خٹک کے مطابق کیبن اور کھوکھے مسمار کرتے وقت پولیس، فرنٹیئر کور اور فرنٹیر ریزرو پولیس کے دستوں نے سارے علاقے کو گھیرے میں لیا ہوا تھا جبکہ بکتر بند گاڑیاں بھی سڑک پر گشت کرتی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔

جلوزئی پناہ گزین کیمپ کے اردگرد واقع بازار میں ایک ہزار سے زائد دکانیں اور کیبن موجود ہیں۔1980 سے قائم اس مہاجر کیمپ میں رجسٹرڈ مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ بتائی جارہی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے سکیورٹی وجوہات اور افغان مہاجرین کے کیمپوں میں مبینہ طور پر طالبان کی سرگرمیوں کی وجہ سے جلوزئی سمیت چار کیمپوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ صوبہ سرحد میں قائم دو کیپموں میں سےکچا گھڑی کا ایک کیمپ گزشتہ ماہ بند کیا جا چکا ہے۔

فائل فوٹو
افغان حکومت کا الزام ہے کہ جلوزئی کیمپ میں طالبان سرگرم ہیں

افغان حکومت نے دو سال قبل الزام لگایا تھا کہ جلوزئی کیمپ میں طالبان مبینہ طور پر سرگرم ہیں تاہم حکومتِ پاکستان اس الزام کی تردید کرتی رہی ہے۔جلوزئی افغان جہاد کے دوران عرب جنگجوؤں اور افغانستان کی سات جہادی تنظیموں کی سرگرمیوں کا اہم مرکز تھا۔

کیمپ میں القاعدہ کے مبینہ بانی عبداللہ عظام نے ایک ’جہاد یونیورسٹی‘ بھی قائم کر رکھی تھی جس میں جہاد سے متعلق نوجوانوں کو فکری تر بیت دی جاتی رہی اور خود عبداللہ عظام، خالد شیخ کے بھائی عابد شیخ اور شیخ تمیم جیسے عرب مجاہدین رہنما جلوزئی کیمپ میں دفن ہیں۔

افغان مہاجرینافغان مہاجرین
مہاجر کیمپ جلد بند کیے جا رہے ہیں: پاکستان
مزدوری پر مجبور
کچرے کے ڈھیروں پر روزی کی تلاش
مولانا عبدالقیوم’انتقام کا خطرہ‘
جلوزئی کے مہاجر کیوں واپس نہیں جانا چاہتے؟
افغان مہاجرین ’افغان ہونا جرم ہے؟‘
’ایک گھنٹے کے نوٹس پر دکانیں گرا دی گئیں‘
اسی بارے میں
افغان: رجسٹریشن کا آخری دن
15 February, 2007 | پاکستان
تین برس میں مہاجرین کی واپسی
07 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد