BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 June, 2007, 12:03 GMT 17:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’واپس گئے تو انتقام کا نشانہ بنیں گے‘

مولانا عبدالقیوم
ہم کسی بھی صورت میں افغانستان نہیں جائیں گے: مولانا عبدالقیوم
صوبہ سرحد میں مقیم افغان جہادی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے سابق مجاہدین نے سیاسی انتقام کا نشانہ بننے کے خدشے کے پیش نظر وطن واپس لوٹنے سے انکار کر دیا ہے۔

ضلع نوشہرہ میں ایک لاکھ نو ہزار افغان مہاجرین کے لیے قائم جلوزئی کیمپ کے سربراہ مولانا عبدالقیوم نے بی بی سی کو بتایا کہ کیمپ میں ہزاروں افراد ایسے ہیں جنہوں نے سابق سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد میں حصہ لیا ہے

ان کے مطابق حامد کرزئی حکومت میں وہ سابق کیمونسٹ افراد برسر اقتدار ہیں جن کے ساتھ انہوں نے جہاد کے دنوں میں لڑائیاں لڑی تھیں۔ان کے بقول ’ہمیں یہ خوف لاحق ہے کہ اگر ہم واپس افغانستان چلےگئے تو وہاں پر مقامی سطح پر بر سراقتدار کیمونسٹ دور کے سابق اہلکار القاعدہ اور دہشت گردوں کے نام پر ہمیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنائیں گے‘۔

مولانا عبدالقیوم نے اس سلسلے میں صوبہ کنڑ میں طالبان دور کے ایک مقامی اہلکار ڈاکٹر نعمت اللہ کی مثال پیش کی۔ ان کے مطابق چند سال قبل جب افغانستان کےصدر حامد کرزئی نے ایک سو پچاس طالبان کے علاوہ باقی تمام طالبان کو عام معافی کا اعلان کیا تو بقول ان کے ڈاکٹر نعمت اللہ موقع سے استفادہ کرتے ہوئے وطن واپس لوٹ گئے لیکن اسی رات کو ان کے گھر پر حملہ کیا گیا جس میں ان کے علاوہ ان کے بچوں اور بیوی کو ہلاک کر دیا گیا۔

جلوزئی کیمپ میں ایک لاکھ نو ہزار افغان مہاجرین رہائش پذیر ہیں

مولانا عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ ’اگر ہمیں جلوزئی کیمپ سے زبر دستی نکال بھی دیا گیا تو ہم صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں پبئی، نوشہرہ اور دیر میں رہائش اختیار کرلیں گے اگر وہاں سے بھی بے دخل کر دیا گیا تو ہم پہاڑوں پر چڑھ کر وہاں رہنا شروع کر دیں گے مگر کسی بھی صورت میں افغانستان نہیں جائیں گے‘۔

مولانا عبدالقیوم نے بتایا کہ انہوں نے اس سلسلے میں مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر اور انسانی حقوق کی بعض تنظیموں کو ایک خط بھی بھیجا ہے جس میں ان سے تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔ خط میں یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ جلوزئی کیمپ میں آباد تین ہزار خاندانوں کا تعلق گلبدین حکمت یار کی تنظیم حزب اسلامی، ملا عمر کی طالبان تحریک اور شیخ جمیل الرحمن کی جماعت سے ہے جو کابل کی موجودہ حکومت سے مطمئن نہیں ہیں۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ عقیدے کے لحاظ سے مسلمان جبکہ نظریاتی طور پرامن پسند لوگ ہیں۔

حکومتِ پاکستان نے جلوزئی کیمپ سمیت چار کیمپوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان حکومت نے سکیورٹی وجوہات اور افغان مہاجرین کے کیمپوں میں مبینہ طور پر طالبان کی سرگرمیوں کی وجہ سے جلوزئی کیمپ سمیت چار کیمپوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

افغان حکومت نے دو سال قبل بھی الزام لگایا تھا کہ جلوزئی کیمپ میں طالبان مبینہ طور پر سرگرم ہیں۔تاہم مولانا عبدالقیوم نے اس بات کی تردید کی کہ القاعدہ اور طالبان کیمپ میں سرگرم عمل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ’پاکستان نے القاعدہ کے سات سو ارکان کو گرفتارکیا ہے اور اگر طالبان اور القاعدہ یہاں سرگرم ہوتی تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں سے کیوں کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا‘۔

جلوزئی افغان جہاد کے دوران عرب جنگجوؤں اور افغانستان کے سات جہادی تنظیموں کی سرگرمیوں کا اہم مرکز تھا ۔اس کیمپ میں القاعدہ کے مبینہ بانی عبداللہ عظام نے ایک ’جہاد یونیورسٹی‘ بھی قائم کی تھی جس میں جہاد سے متعلق نوجوانوں کو فکری تر بیت دی جاتی رہی اور خود عبداللہ عظام، خالد شیخ کے بھائی عابد شیخ اور شیخ تمیم جیسے عرب مجاہدین رہنماء جلوزئی کیمپ میں سپرد خاک ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد