رجسٹرڈ افغانوں کے لیے مزید وقت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان، افغانستان اور پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر نے پاکستان سے رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کی رضاکارانہ واپسی کے عمل کو مزید تین برس کے لیے توسیع دینے کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس تازہ سہہ فریقی معاہدے کے تحت پاکستان میں مقیم تقریباً بیس لاکھ پچاس ہزار رجسٹرڈ پناہ گزین اکتیس دسمبر دو ہزار نو تک اپنے گھروں کو رضاکارانہ طور پر واپس جا سکیں گے۔ اس سے قبل اب تک رضاکارانہ واپسی کے پروگرام کے تحت تین لاکھ پناہ گزین اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔ دستخط کی تقریب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر سردار یار محمد رنف نے کہا کہ اندراج نہ کرانے والے پناہ گزینوں کو ڈیڑھ ماہ کا وقت دیا گیا تھا جس کے بعد اب ملک میں صرف رجسٹرڈ پناہ گزین باقی رہ گئے ہیں۔ ملک میں پناہ گزین کیمپوں کی بندش کے بارے میں ایک سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ صوبہ سرحد میں کچہ گڑھی کیمپ بند ہوچکا ہے جبکہ جلوزئی بھی جلد بند ہوجائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اسی طرح بلوچستان میں بھی دو کیمپوں کی بندش آئندہ چند ماہ میں مکمل کر لی جائے گی۔ افغانستان کے پناہ گزینوں کے لیے وزیر محمد اکبر اکبر نے بتایا کہ کہ وطن واپس لوٹنے والے پناہ گزینوں کے لیے نئے ٹاون شپ قائم کیے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر یو این ایچ سی آر کی اسٹنٹ ہائی کمشنر جوڈی ہوپکنز نے کہا کہ پاکستان سے کسی بھی پناہ گزین کو زبردستی نہیں نکالا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ سے تباہ حال افغانستان میں بنیادی ڈھانچے کی تکمیل میں وقت لگے گا۔ | اسی بارے میں مہاجرین کی منتقلی کے فیصلے پر ردِعمل29 May, 2007 | پاکستان افغان پناہ گزین، کارروائی، ہلاکتیں 16 May, 2007 | پاکستان پناہ گزین کیمپ میں کشیدگی16 May, 2007 | پاکستان پناہ گزینوں کےلیے اقوام متحدہ سےاپیل17 April, 2007 | پاکستان افغان مہاجرین ، واپسی کا آخری دن15 April, 2007 | پاکستان افغانوں کی پاکستان سے جانے کی شرط16 February, 2007 | پاکستان ’افغانستان سے اب نہیں جائیں گے‘12 February, 2007 | پاکستان تین برس میں مہاجرین کی واپسی07 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||