عزیزاللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ |  |
 | | | پاکستان سے بیشتر افغان پناہ گزین چلے گئے |
بلوچستان میں بدھ سے غیر رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں جنگل پیر علیزئی کیمپ سے کشیدگی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کوئٹہ چمن شاہراہ کو بلاک کیا گیا ہے۔ کیمپ کے ایک بزرگ حاجی محبوب کے مطابق سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس طارق مسعود کھوسہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ غیر رجسٹرڈ پناہ گزینوں کو وطن واپس بھیجنے کے لیے جنگل پیر علیزئی کیمپ سے آغاز کر دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں انتظامیہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی لوگوں پر مبنی ایک کمیٹی قائم کی ہے۔ جنگل پیر علیزئی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق بدھ کی صبح مقامی لوگوں نے کارروائی شروع ہونے سے پہلے روڈ بلاک کر دیا ہے اور ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے آنسو گیس کا استعمال کیا ہے اور کچھ ’خالی مکانات‘ کو گرادیا ہے۔ پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ تمام عملہ اس وقت کیمپ کے پاس موجود ہے، اس لیے مزید تفصیلات معلوم نہیں ہو رہیں۔ جنگل پیر علیزئی میں مقیم افراد کا موقف ہے کہ اس کیمپ سے بیشتر پناہ گزین واپس جا چکے ہیں، کچھ باقی ہیں جبکہ باقی مقامی لوگ ہیں جن کے پاس پاکستان میں رہائش کے تمام دستاویزات موجود ہیں۔ یاد رہے کہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی قلعہ عبداللہ میں اس کیمپ کو بند کرنے کا بارہا مطالبہ کرچکی ہے اور اس جماعت کے قائدین کا موقف ہے کہ اس کیمپ میں بڑی تعداد میں جرائم پیشہ لوگ موجود ہیں۔ غیر رجسٹرڈ پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کی آخری تاریخ پندرہ اپریل مقرر کی گئی تھی اور یہ کہا گیا تھا کہ اس تاریخ کے بعد غیر رجسٹرڈ پناہ گزینوں کو زبردستی واپس بھیجا جائے گا۔ اب حکومت نے بلوچستان میں افغان پناہ گزینوں کے دو کیمپ بند کرنے فیصلہ کیا ہے۔ جنگل پیرعلیزئی کیمپ کو پندرہ جون اور گردی جنگل کیمپ کو پندرہ اگست تک بند کیا جائے گا۔ |