پناہ گزینوں کےلیے اقوام متحدہ سےاپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں افغان شہریوں کی رجسٹریشن کے لیے مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد اپنے شہریوں کے مطالبے پر افغانستان حکومت نے اقوام متحدہ کو خط لکھ کر مدت بڑہانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کراچی میں افغان پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے سربراہ حاجی عبداللہ بخاری نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے کراچی میں قائم اپنے سفارتخانے سے رابطہ کیا تھا، جہاں سے جنیوا اور کابل میں متعلقہ وزارت کو خط لکھ کر رجسٹریشن کی مدت بڑہانے کی اپیل کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں پانچ لاکھ کے قریب افغانوں میں سے صرف چالیس ہزار واپس گئے ہیں، باقی میں سے صرف بانوے ہزار کو نادرا کے کارڈ ملے سکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کرنے والے ادارے اکثر پناہ گزینوں کے پاس نہیں پہنچ سکے۔ حاجی عبداللہ کا کہنا تھا کہ رجسٹریشن کرنے والوں نے لوگوں کو آگاہی نہیں دی کہ یہ کارڈ فائدہ مند ہوگا اور رجسٹریشن نہ کروانے کے کیا نقصانات ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ لوگ صرف دروازہ پر کھڑے ہوکر معلوم کرتے تھے کہ گھر میں کتنے لوگ رہتے ہیں ان میں سے کتنے مرد اور خواتین ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس فارین ایکٹ کے تحت گرفتاریاں کرتی ہے جس میں ضمانت بھی نہیں ہوتی۔ اس وقت بھی کراچی کی جیلوں میں ساٹھ افغان پناہ گزیں قید ہیں جن میں سے بیس بچے ہیں۔ | اسی بارے میں افغان مہاجرین کی واپسی کا آخری دن15 April, 2007 | پاکستان پناہ گزینوں اور پولیس میں جھڑپ12 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||