’افغان مہاجرین کو واپس جانا ہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحدی امور اور قبائلی علاقہ جات کے وفاقی وزیر سردار یار محمد رند نے کہا ہے کہ تیس ستمبر2009ء تک پاکستان میں مقیم تمام افغان مہاجرین کو ہرصورت میں ان کے ملک واپس بھیج دیا جائیگا۔ کوئٹہ میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یار محمد رند نے کہا کہ اب تک اپنے ملک واپس جانے والے دو لاکھ افغان مہاجرین کو پندرہ ملین ڈالر کی امداد دی گئی تھی، جس میں سے پانچ ملین ڈالر حکومت پاکستان نے فراہم کیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قائم چار افغان مہاجر کیمپوں کو بھی اس سال کے آخرتک بندکر دیا جائے گا، جس میں صوبہ سرحد کے شمستواور کچا گھڑی اور بلوچستان کے جنگل پیر علیزئی اورگردی جنگل شامل ہیں۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سر حد میں قائم کیمپوں سے بڑے پیمانے پر افغان مہاجرین جا رہے ہیں، جبکہ بلوچستان کے کیمپوں کو بند کرنے سے قبل چند سیاسی قوتوں نے معاملے کو سیاسی رنگ دے دیا، جس کی وجہ سے انہیں بند کرنے کے فیصلے پر فوری عمل نہیں ہوسکا۔
یاد رہے کہ اس سال چودہ جون کو جنگل پیر علیزئی کیمپ میں آْباد پینتالیس ہزار افغان مہاجرین کو جب ان کے وطن واپس بھیجنے کی کوشش کی گئی تو ہنگامہ آرائی میں تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ یار محمد رند نے کہا کہ بلوچستان میں قائم مہاجر کیمپوں کو بند کرنے کے لیے بلوچستان کی صوبائی حکومت کو اسی طرح بھر پور تعاون کرنا ہوگا جس طرح کہ سرحد کی صوبائی حکومت نے کیا ہے۔ ’بلوچستان کی حکومت کو مہاجرین کی واپسی کے لیے سیاسی ماحول پیدا کرنا ہوگا۔‘ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں اکیس لاکھ افغان مہاجرین ایسے ہیں جنہوں نے پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کے تحت شناختی دستاویزات حاصل کر رکھی ہیں جبکہ ایک اندازے کے مطابق پانچ لاکھ کے قریب ایسے افغان مہاجرین ہیں جنہوں نے پی او آر کارڈز حاصل نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ افغان مہاجرین جنہوں نے رجسٹریشن کروائی ہوئی ہے انہیں پاکستان میں رہائش رکھنے کی اجازت ہے جبکہ رجسٹریشن نہ کروانے والوں کو غیر قانونی تارکین وطن تصور کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے متنبہ کیا کہ وہ افغان مہاجرین جنہوں نے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کر رکھے ہیں وہ رضاکارانہ طور پر انہیں واپس کر دیں ورنہ ان کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں ان کے جائیداد بھی ضبط کرلی جائے گی۔ بلوچستان میں قائم کیمپوں میں میں رہائش پذیر افعان مہاجرین کا موقف ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورت حال میں وہ کسی بھی صورت میں وطن واپس جانے کو تیار نہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ نے انیس سوپچانوے سے ہی ان دونوں کیمپوں میں افغان مہاجرین کے لیے تعلیم اور صحت کی تمام سہولتیں ختم کر رکھی ہیں تا کہ مہاجرین کو واپس افغانستان جانے پرمجبور کیا جاسکے۔ |
اسی بارے میں مہاجرین کی منتقلی کے فیصلے پر ردِعمل29 May, 2007 | پاکستان افغان پناہ گزین: ایران سے پاکستان23 April, 2007 | پاکستان پناہ گزینوں اور پولیس میں جھڑپ12 April, 2007 | پاکستان افغانوں کی پاکستان سے جانے کی شرط16 February, 2007 | پاکستان جاسوسی کا شبہ، افغان مہاجر قتل02 February, 2007 | پاکستان افغان پناہ گزینوں کا نیا سروے14 June, 2005 | پاکستان پندرہ افغان پناہ گزیں کیمپ بند31 August, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||