BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 July, 2007, 00:33 GMT 05:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’افغان مہاجرین کو واپس جانا ہوگا‘

یار محمد رند
مہاجرین کی واپسی کے لیے سیاسی ماحول پیدا کرنا ہوگا: رند
سرحدی امور اور قبائلی علاقہ جات کے وفاقی وزیر سردار یار محمد رند نے کہا ہے کہ تیس ستمبر2009ء تک پاکستان میں مقیم تمام افغان مہاجرین کو ہرصورت میں ان کے ملک واپس بھیج دیا جائیگا۔

کوئٹہ میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یار محمد رند نے کہا کہ اب تک اپنے ملک واپس جانے والے دو لاکھ افغان مہاجرین کو پندرہ ملین ڈالر کی امداد دی گئی تھی، جس میں سے پانچ ملین ڈالر حکومت پاکستان نے فراہم کیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قائم چار افغان مہاجر کیمپوں کو بھی اس سال کے آخرتک بندکر دیا جائے گا، جس میں صوبہ سرحد کے شمستواور کچا گھڑی اور بلوچستان کے جنگل پیر علیزئی اورگردی جنگل شامل ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سر حد میں قائم کیمپوں سے بڑے پیمانے پر افغان مہاجرین جا رہے ہیں، جبکہ بلوچستان کے کیمپوں کو بند کرنے سے قبل چند سیاسی قوتوں نے معاملے کو سیاسی رنگ دے دیا، جس کی وجہ سے انہیں بند کرنے کے فیصلے پر فوری عمل نہیں ہوسکا۔

فیصلہ اور سیاسی رنگ
 بلوچستان کے کیمپوں کو بند کرنے سے قبل چند سیاسی قوتوں نے معاملے کو سیاسی رنگ دے دیا، جس کی وجہ سے انہیں بند کرنے کے فیصلے پر فوری عمل نہیں ہوسکا
یار محمد رند

یاد رہے کہ اس سال چودہ جون کو جنگل پیر علیزئی کیمپ میں آْباد پینتالیس ہزار افغان مہاجرین کو جب ان کے وطن واپس بھیجنے کی کوشش کی گئی تو ہنگامہ آرائی میں تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یار محمد رند نے کہا کہ بلوچستان میں قائم مہاجر کیمپوں کو بند کرنے کے لیے بلوچستان کی صوبائی حکومت کو اسی طرح بھر پور تعاون کرنا ہوگا جس طرح کہ سرحد کی صوبائی حکومت نے کیا ہے۔ ’بلوچستان کی حکومت کو مہاجرین کی واپسی کے لیے سیاسی ماحول پیدا کرنا ہوگا۔‘

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں اکیس لاکھ افغان مہاجرین ایسے ہیں جنہوں نے پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کے تحت شناختی دستاویزات حاصل کر رکھی ہیں جبکہ ایک اندازے کے مطابق پانچ لاکھ کے قریب ایسے افغان مہاجرین ہیں جنہوں نے پی او آر کارڈز حاصل نہیں کیے۔

انہوں نے کہا کہ وہ افغان مہاجرین جنہوں نے رجسٹریشن کروائی ہوئی ہے انہیں پاکستان میں رہائش رکھنے کی اجازت ہے جبکہ رجسٹریشن نہ کروانے والوں کو غیر قانونی تارکین وطن تصور کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ نے افغان مہاجرین کے لیے تعلیم اور صحت کے سہولتیں بند کر رکھی ہیں

وفاقی وزیر نے متنبہ کیا کہ وہ افغان مہاجرین جنہوں نے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کر رکھے ہیں وہ رضاکارانہ طور پر انہیں واپس کر دیں ورنہ ان کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں ان کے جائیداد بھی ضبط کرلی جائے گی۔

بلوچستان میں قائم کیمپوں میں میں رہائش پذیر افعان مہاجرین کا موقف ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورت حال میں وہ کسی بھی صورت میں وطن واپس جانے کو تیار نہیں۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ نے انیس سوپچانوے سے ہی ان دونوں کیمپوں میں افغان مہاجرین کے لیے تعلیم اور صحت کی تمام سہولتیں ختم کر رکھی ہیں تا کہ مہاجرین کو واپس افغانستان جانے پرمجبور کیا جاسکے۔

مزدوری پر مجبور
کچرے کے ڈھیروں پر روزی کی تلاش
مولانا عبدالقیوم’انتقام کا خطرہ‘
جلوزئی کے مہاجر کیوں واپس نہیں جانا چاہتے؟
افغان مہاجرین ’افغان ہونا جرم ہے؟‘
’ایک گھنٹے کے نوٹس پر دکانیں گرا دی گئیں‘
افغان پناہ گزینوں کی رجسٹریشنپاکستان میں افغان
پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کا آخری دن
افغانستان کا نقشہپناہ گزینوں کوپیغام
’افغانستان آپ کا گھر ہے، خوش آمدید‘
muhajirوطن واپسی کا اتظار
افعان مہاجرین کو وطن کی یاد ستاتی ہے
 چوبی قالین مہاجرین کا تحفہ
غزنی کی اون سے بنے چوبی قالینوں کی مقبولیت
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد