عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | سرحد حکومت اور طالبان کے درمیان معادہ کے بعد صوبائی وزیر بشیر احمد بلور معاہدہ کی نقل دکھا رہے ہیں |
افغان طالبان نے پاکستان اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے امریکہ اور نیٹو فورسز کے ان الزامات کو رد کردیا ہے کہ بات چیت کی کامیابی سے سرحد پار دراندازی میں اضافہ ہوا ہے۔ طالبان کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور غیر ملکی افواج کے یہ دعوے بے بنیاد ہیں کہ پاکستان میں طالبان اور حکومت کے درمیان ہونے والے کامیاب مذاکرات کے بعد افغانستان میں مبینہ شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ طالبان کے ترجمان قاری یوسف نے بی بی سی ارود سروس سے بات چیت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پاکستان کی دشمن قوتیں نہیں چاہتیں کہ اس ملک میں امن قائم ہو۔ ان کے مطابق امریکہ افغانستان میں اپنی موجودگی کا جواز پیدا کرنے کے لیے افغانوں کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ پاکستان ان کا دشمن ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وقت امریکہ اور غیر ملکی افواج کو افغانستان میں سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور امریکہ اس قسم الزامات لگا کر پاکستان کی نئی سیاسی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اسے افغانستان میں اپنے مفادات کے لیے استعمال کر سکے۔
 | اپنے قومی مفادات سامنے رکھیں  پاکستان اور دیگر ممالک اپنے تمام فیصلے بیرونی دباؤ کے بغیر اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھ کر کریں گے  افغان طالبان |
بیان میں یہ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ پاکستان اور دیگر ممالک اپنے تمام فیصلے بیرونی دباؤ کے بغیر اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھ کر کریں گے۔ یاد رہے کہ طالبان کا یہ بیان پاکستانی کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورۂ افغانستان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ دورے کےدوران افغان صدر حامد کرزئی اور وزیر خارجہ رنگین دادفر سپنتا نے حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ تاہم پاکستانی وزیر خارجہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ مبینہ دہشت گردوں سے نہیں بلکہ امن پسند افراد سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ |