’طالبان رہا نہ ہوئےتو معاہدہ خطرےمیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوات سے تعلق رکھنے والے طالبان کا کہنا ہے کہ اگر ان کے گرفتار شدہ ساتھیوں کو سنیچر تک رہا نہیں کیا گیا تو حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان طے پانے والا امن معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ تحریک طالبان سوات کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا مسلم خان کے مطابق فریقین کے درمیان ہونے والے معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ آپریشن کے دوران گرفتار ہونے والے تمام افراد کو رہا کیا جائے گا اور اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں جمعہ کو سترہ افراد کی رہائی کا وعدہ کیا گیا تھا تاہم تمام دن کی کوششوں کے باوجود کسی قسم کی کوئی رہائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ ان کے مطابق انہوں نے ان سترہ افراد کی رہائی کے لیے سارا دن عدالت میں گزارا تاہم آخر میں انہیں بتایا گیا کہ بعض قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے جمعہ کے دن رہائی ممکن نہیں ہے۔ ان کے بقول حکام نے انہیں صرف سات افراد کی رہا ئی کی پیشکش کی جسے انہوں نے رد کر دیا۔ اس سلسلے میں جب سوات کے ضلعی رابطہ آفسر شوکت یوسف زئی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ حکومت معاہدے کی پاسداری پر کاربند ہے اور مقامی انتظامیہ نے انسداد دہشتگردی کی عدالت کو ان افراد کی رہائی کی درخواست دے دی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جج نے رہائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں مگر ایک ماتحت اہلکار کی عدم موجودگی کی وجہ سے قانونی کارروائی آگے نہیں بڑھ پائی ہے جو فریقین کے درمیان غلط فہمی کی وجہ بنی ہے۔ شوکت یوسف زئی نے واضح کیا کہ حکومت معاہدے کو کامیاب بنانے کی بھرپور کوشش کررہی ہے اور توقع ہے گرفتار شدگان جلد سے جلد رہا کر دیا جائے گا۔ | اسی بارے میں درہ آدم خیل میں بھی’جنگ بندی‘28 May, 2008 | پاکستان سوات: عسکریت پسندگھر واپس26 May, 2008 | پاکستان سوات: معاہدے پر امریکی تحفظات22 May, 2008 | پاکستان سوات: ’معاہدے کی اہمیت نہیں‘22 May, 2008 | پاکستان سوات:اہلکار ہلاک، سکول نذرِ آتش21 May, 2008 | پاکستان حکومت و طالبان کا امن معاہدہ21 May, 2008 | پاکستان قیدی نہیں’معصوم‘ رہا کیے ہیں: رحمان20 May, 2008 | پاکستان مالاکنڈ: شریعت کا نفاذ ایک ماہ میں13 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||