امریکی حملہ بزدلانہ تھا: پاک فوج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں افغان سرحد کے قریب امریکی فوج کے ’فضائی‘ حملے میں گیارہ پاکستانی فوجیوں سمیت بیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں پاکستانی فوج کا ایک افسر بھی شامل ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے غیر معمولی طور پر سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں موجود بین الاقوامی فوج کو چاہیے کہ وہ پاکستانی سرحد کی خلاف ورزی اور پاکستانی فوجیوں پر حملے کرنے سے باز رہے۔ دفترخارجہ نے مطالبہ کیا کہ اتحادی فوج کو اس واقع کی تحقیقات کرنی چاہیں اور اس سے پاکستان فوج کو آگاہ کیا جانا چاہیے۔ اس تحریری بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی فوج اپنے اہلکاروں اور شہریوں کی حفاظت کرنے کے حق کو محفوظ رکھتے ہیں۔ پاکستان فوج کے ترجمان نے افغانستان میں موجود اتحادی فوج کی طرف سے اس حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری تعاون کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بھی اس واقع کی مذمت کے لیے ایک علیحدہ تحریری بیان جاری کیا اور کہا کہ فضائی طاقت کا بے مہابا استعمال کسی طور پر قابلِ قبول نہیں ہے۔ دفترِ خارجہ نے کہا کہ یہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بین الاقوامی سرحد کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان نے پاکستان کے قبائلی علاقے میں حملے کی تصدیق کی ہے۔ امریکی فوجی ترجمان نے مزید کچھ بتانے سے گریز کیا۔ سرحد پر امریکی افواج اور شدت پسندوں میں شدید جھڑپ کے بعد امریکی افواج نے فضائی حملہ کیا جس میں سے پاکستانی سرحد کے اندر قائم پاکستان کے نیم فوجی دستوں فرنٹیر کانسٹیبلری کی ایک چوکی بھی زد میں آ گئی۔
افغانستان میں کثیرالاقومی فوج ایساف کے ترجمان بریگیڈئر جنرل کارلوس برانکو نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے عبدالحئی کاکڑ کو بتایا کہ ان کی افواج پر سرحد پار سے فائرنگ کی گئی تھی جس کے جواب میں انہوں نے بھی فائرنگ کی۔ انہوں نے کہا کہ اس جھڑپ میں ان کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ انہیں دوسری طرف ہلاک ہونے والے افراد کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ طالبان تحریک کے ترجمان مولوی عمر نے واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ منگل کی شام افغان اور نیٹو فورسز نے پاکستانی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر ساٹھ سے زائد طالبان نے ان پر حملہ کر دیا۔
مولوی عمر نے دعویٰ کیا کہ حملے کے بعد نیٹو فورسز نے فضائی مدد طلب کی جس نے پاکستانی علاقے میں موجود طالبان جنگجوؤں پر بمباری کی۔ اس بمباری کی زد میں ایک پاکستانی چیک پوسٹ بھی آگئی اور ایک میجر سمیت پاکستانی اہلکار ہلاک ہو گئے۔ بمباری میں آٹھ طالبان جنگجو بھی ہلاک اور نو زخمی ہو گئے۔ اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلٹ نے کہا کہ پاکستان فوج کی طرف سے جاری ہونا والے مذمتی بیان میں غیر معملولی طور پر سخت الفاط استعمال کیئے گئے ہیں اور اسے ایک جارحانہ اقدام قرار دیا گیا ہے۔ افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج سرگرم ہیں۔ نیٹو افواج کی زیادہ تر توجہ امن قائم رکھنے اور ملک کی تعمیر نو پر مرکوز ہے جبکہ امریکی افواج براہ راست شدت پسندی کو روکنے اور طالبان کے خلاف کارروائیاں کرنے پر معمور ہیں۔ نیٹو کے اہلکار نے بی بی سی کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس میں امریکی فوج ملوث تھی اور نیٹو افواج کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ امریکہ ماضی میں بھی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پائلٹ کے بغیر چلائے جانے والے جہازوں سے میزائیل حملے کرتا رہا ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی کبھی تصدیق نہیں کی گئی۔ ہماری نامہ نگار کے مطابق اس طرح کے حملوں سے پاکستان میں عوامی سطح پر غم و غصہ نے جنم لیا ہے اور ان حملوں کو ملک کی خودمختاری کے خلاف تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حملوں میں پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت سے شدید رد عمل سامنے آسکتا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ چند مہینوں سے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ پاکستانی فوجی اس سے قبل بھی کئی مرتبہ امریکی اور اتحادی فوجوں کے حملوں یا ’فرینڈلی فائر‘ کی زد میں آ چکے ہیں۔ | اسی بارے میں ’طالبان رہا نہ ہوئےتو معاہدہ خطرےمیں‘06 June, 2008 | پاکستان سرحدمیں چھ طالبان کو رہا کر دیا گیا07 June, 2008 | پاکستان ’اب بھی فضل اللہ کا ساتھ دیں گے‘07 June, 2008 | پاکستان طالبان: پاک-افغان معلومات کا تبادلہ08 June, 2008 | پاکستان ٹانک:پولیس چوکی پرطالبان کا حملہ08 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||