فوجی کارروائی سے تبدیلی نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیرہ ستمبر 2001 کا دن تھا۔ دو روز پہلے نیویار ک اور پنٹاگون پر دہشت گرد حملے ہوئے تھے۔ امریکی نائب وزیرِ خارجہ (تب) رچرڈ آرمٹیج اور پاکستانی آئی ایس آئی کے سربراہ (تب) جنرل محمود احمد میں ملاقات ہوئی۔ پاکستانی جنرل نے حسبِ عادت مخصوص افغان روایات اور انیسویں صدی میں برطانوی تجربات کی حکایت چھیڑنا چاہی۔ رچرڈ آرمٹیج نے ہاتھ کے اشارے سے جنرل محمود کو روکتے ہوئے کہا، ’سنو، باہر گلی میں تین ہزار امریکیوں کی لاشیں پڑی ہیں۔ میرے پاس تمہاری کہانیاں سننے کا وقت نہیں ہے‘۔ جنرل محمود کو ترنت ان کہانیوں کا بستہ لپیٹنا پڑا جو ہم افغان جہاد کے دنوں سے دنیا کو سناتے آ رہے ہیں۔ جن کی تان یہاں ٹوٹتی تھی کہ پاکستان بالخصوص پختونوں کو بین الاقوامی قانون سے مستثنیٰ سمجھا جائے۔ اب اگر دنیا نہیں سننا چاہتی تو نہ سہی۔ ہم چیخوف کے افسانوی کوچوان کی طرح اپنے گھوڑے یعنی پاکستانی عوام ہی کو طوطا مینا کی کہانی سنا لیتے ہیں۔ ’پختون مہمان نواز ہیں۔ سرحد پار نقل و حرکت روکنا ممکن نہیں۔ جہاد اور دہشت گردی میں فرق کرنا چاہیے ۔ قبائلی علاقوں میں کوئی غیر ملکی نہیں۔ قائد اعظم نے وعدہ کیا تھا کہ قبائلی علاقوں میں فوج نہیں بھیجی جائے گی۔ بین الاقوامی سرحد کے پار غیر مسلموں سے لڑنے جانا قبائلی روایت ہے۔ طالبان تو امن و امان قائم کرنے کی غرض سے جرائم پیشہ لوگوں کے گلے کاٹ رہے ہیں۔ قبائلی جرگہ روایتی طور پر ڈھول بجاتے ہوئے لشکر روانہ کرتا ہے‘۔ اٹھائیس جون کو خیبر ایجنسی میں فوجی کارروائی کے لیے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے کُوچ کا منظر بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ ٹیلی ویژن کیمروں کی چکا چوند تھی۔ مسکراہٹوں کے تبادلے تھے۔ البتہ روایتی ڈھول کی کمی ضرور محسوس کی گئی۔ کئی ہفتوں سے صوبہ سرحد سے معنی خیز خبریں آ رہی تھیں ۔ پچیس جون کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں حکومت نے فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی کو قبائلی علاقوں میں حکومتی عمل داری بحال کرنے کے لئے فوجی کارروائی کے حوالے سے تمام اختیارات سونپ دئیے۔ اسی روز ٹیلی ویژن پر ڈمہ ڈولا کے مقام پر نام نہاد طالبان کے ہاتھوں دو افراد کو سینکڑوں لوگوں کے سامنے ذبح کرنے کے مناظر دکھائے گئے۔ قبل ازیں ٹیلی ویژن اس نوعیت کی متعدد خبریں نشر کرنے سے قاصر رہا تھا۔ بظاہر عوام کو ذہنی طور پر سنگین صورتِ حال کے لئے تیار کیا جا رہا تھا۔
بالآخر 28 جون کی صبح خیبر ایجنسی میں ’قانون شکن عناصر‘ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ سرکاری نفری کو کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جن عناصر کے خلاف کارروائی مقصود تھی وہ میلوں دور تیراہ کی دشوار گزار وادی میں سرکاری آپریشن سے بے نیاز آپس میں گھمسان کی لڑائی میں مصروف تھے۔ حسبِ توقع اگلے روز اعلان ہوا کہ پشاور کو فوری طور پر طالبان سے کوئی خطرہ نہیں نیز یہ کوئی فوجی آپریشن نہیں بلکہ قانون شکن عناصر کے خلاف سول اور نیم فوجی اداروں کی معمول کی کارروائی ہے۔ پشاور سے تقریباً15 کلو میٹر دور واقع خیبر ایجنسی میں سے نیٹو افواج کے لئے کراچی سے آنے والی 80 فیصد رسد گزرتی ہے۔ اس علاقے میں گزشتہ چند برسوں سے تین تنظیموں نے اسلامی نظام کے قیام کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ منگل باغ کی تنظیم، ’لشکراسلام ‘ کٹر سلفی عقائد کی حامل ہے۔ ملا منیر شاکر کا گروہ ’انصار اسلام ‘صوفی عقائد کا پیروکار ہے۔ حاجی نامدار کے گروہ ’امر بالمعروف ونہی عن المنکر‘ پر حکومتی سرپرستی کا الزام لگایا جاتا ہے۔ اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد صوبہ سرحد میں برسراقتدار عوامی نیشنل پارٹی نے مذہبی انتہا پسندوں کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالا۔ امن مذاکرات پر اتحادی قوتوں بالخصوص امریکہ نے خاصے تحفظات کا اظہار کیا کیونکہ قبل ازیں فروری 2005 اور ستمبر 2006 میں ہونے والے معاہدے ناکام رہے تھے۔ طالبان نے مہلت سے فائدہ اٹھا کر علاقے میں پاکستانی ریاست کے روایتی طور پر وفادار تقریباً تمام عمائدین قتل کر دیے تھے۔ ہر امن معاہدے کے بعد طالبان مضبوط ہوئے، افغانستان میں دراندازی کے واقعات میں اضافہ ہوا اور قبائلی علاقوں میں پاکستانی ریاست کی عملداری کمزور ہوئی۔ پاکستان میں انتخابات کے بعد کی صورت حال میں اقتدار کا اصل سرچشمہ معلوم کرنا نہایت مشکل ہے۔ مذہبی انتہا پسندی کے بارے میں اصولی موقف کے باوجود پیپلز پارٹی نے عوام کو پوری طرح اعتماد میں لینا ضروری نہیں سمجھا۔ مفاہمت کی پالیسی پر اندھا دھند زور دینے سے یہ احساس پیدا ہواکہ پیپلز پارٹی کے لیے کھل کر مذہبی انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا دشوار ثابت ہو رہا ہے۔ مسلم لیگ (نواز )نے ہر ایسے مطالبے کا کھل کر ساتھ دیا جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر مذہبی انتہاپسندی کو تقویت دیتا ہو۔ غالباً نواز شریف ہر قیمت پر اپنا مذہبی ووٹ بینک برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔ طالبان سے مذاکرات کی پرجوش وکالت سے یہ تاثر ملا کہ عوامی نیشنل پارٹی انتہا پسندوں کے ساتھ کھلے تصادم سے گریز کر کے صوبے میں اپنی حکومت بچانے کی خواہاں ہے بلکہ طالبان کو پختون قومیت کے تناظر میں پیش کر کے ان کی ہمدردیاں سمیٹنا چاہتی ہے ۔
سیاسی طور پر محصور صدر مشرف نے بھی سلامتی کو درپیش اس اہم ترین خطرے پر کھل کر لب کشائی سے گریز کیا۔ اکیس مئی کو سوات میں صوبائی حکومت اور تحریک نفاذ شریعت محمدی کے مابین معاہدے کے بعد صوفی محمد اور ان کے متعدد حامیوں کو رہا کر دیا گیا۔ اوائل مئی میں فوج نے صحافیوں کو سپنکئی رغزئی کے مقام کا دورہ کرایا تھا۔ سوات میں معاہدہ ہونے کے فوراً بعد بیت اللہ محسود نے سپنکئی رغزئی ہی میں پریس کانفرنس کی تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ فوج واپس جا چکی ہے اور انہیں دوبارہ یہاں قبضہ حاصل ہو چکا ہے۔ 2008 کے پہلے پانچ مہینوں میں افغانستان میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 40 فی صد زیادہ حملے ہوئے۔ 2008 کے دوران مرنے والے 106اتحادی فوجیوں میں سے کم از کم 39فوجی ماہ ِجون میں ہلاک ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق خوست کے محاذ پر وزیرستان سے تربیت یافتہ طالبان کی کمک پہنچائی گئی۔ اتحادی افواج پاکستان کے قبائلی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی میں طالبان کے خلاف موثر کارروائی سے قاصر تھیں۔ ستمبر 2001 کے بعد پاکستان کو امریکہ سے قریباً دس ارب ڈالر کی امداد حاصل ہوئی جب کہ مزید معاشی اور دفاعی امداد کی یقین دہانی موجود ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق موثر تعاون کی عدم موجودگی میں امداد کا یہ سلسلہ روکا بھی جا سکتاہے۔ پاکستان اور افغانستان میں موجود اتحادی افواج میں طے پایا تھا کہ اتحادی افواج افغانستان کی طرف سے القاعدہ اور طالبان پر دباؤ ڈالیں گی جب کہ پاکستان مشرق سے انہیں گھیرے میں لے کر گویا زنبور کے جبڑے میں لے آئے گا۔ نیٹو افواج اور امریکی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر طالبان اور القاعدہ آزادی سے نہ صرف افغانستان میں حملے کر رہے ہیں بلکہ انہوں نے عملی طور پر پاکستان کے کئی ہزار مربع کلو میٹر رقبے پر متوازی ریاست قائم کر رکھی ہے تو پاکستان کی طرف سے زنبور کا بازو کہاں ہے؟
اس دوران گیارہ جون کو مہمند ایجنسی میں اتحادی افواج کی طرف سے بمباری کے بعد فریقین نے غیرمعمولی سخت لب و لہجہ اختیار کیا۔ دوسری طرف صدر حامد کرزئی نے دو ٹوک انداز میں افغان افواج پاکستان میں داخل کرنے کی دھمکی دی۔ بالآخر حکومت پاکستان نے اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور اعلیٰ سطح پر طالبان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم ابھی کارروائی کی تفصیلات زیر غور تھیں کہ بیت اللہ محسود نے طالبان کے اصل ٹھکانوں سے توجہ ہٹانے کے لئے آگے بڑھ کر ضرب لگانے کا فیصلہ کر لیا۔ جون کے تیسرے ہفتے میں طالبان نے اچانک وانا سے ستر کلومیٹر دور مشرق میں جنڈولہ کے قصبے پر حملہ کر کے حکومت پاکستان کی وفادار امن کمیٹی کے تیس ارکان اغوا کر لیے۔ دو دن بعد امن کمیٹی کے 28 ارکان کی سربریدہ لاشیں ایک نالے سے برآمد ہوئیں۔ ادھر پشاور کے نواحی قصبات میں طالبان نے موسیقی اور انٹر نیٹ کی تمام دکانیں بند کرادیں۔ حجاموں کو داڑھی مونڈنے سے روک دیا گیا۔ اعلان کیا گیا کہ اپنی بچیوں کو سکول بھیجنے والے نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ پشاور میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں تو مدت سے ہو رہی تھیں لیکن اب مسلح طالبان دن دیہاڑے پشاور میں نظر آنے لگے۔ پشاور پولیس نے نواحی علاقوں میں رات کے وقت گشت کا سلسلہ کئی مہینوں سے ترک کر رکھا ہے۔ 18جون کو حیات آباد سے مبینہ جنسی جرائم کے الزام میں چھ عورتوں کو اغوا کرکے ان پر رات بھر وحشیانہ تشدد کیا گیا۔ دو روز بعد پشاور سے سولہ مسیحی افراد کو اغوا کر لیا گیا جنہیں اگلے روز بازیاب کرایا جا سکا۔ ایک معروف صحافی نے لکھا کہ پشاور تین اطراف سے طالبان کے محاصرے میں ہے اور کسی حملے کی صورت میں پولیس کی نفری شہر کا دفاع کرنے سے قاصر ہے۔ حتیٰ کہ جمعیت العلمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پارلیمنٹ میں دہائی دی کہ پشاور پر طالبان کا قبضہ صرف چند مہینوں کی بات ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق 25 جون کے اجلاس میں دراصل سیاسی قیادت نے حتمی فیصلے کی ذمہ داری فوجی قیادت کو منتقل کی تھی۔ تاہم فوج نے یہ ذمہ داری نیم عسکری ملیشیا فرنٹیئر کانسٹیبلری کو سونپ دی۔ طالبان کے حقیقی گڑھ جنوبی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، سوات اور درہ آدم خیل میں واقع ہیں لیکن فوجی آپریشن خیبر ایجنسی میں شروع کیا گیا۔ خیبر ایجنسی میں سرگرم جنگجو گروہوں کو مذہبی شدت پسندی کا مرکزہ قرارنہیں دیا جاسکتا۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ پشاور کے گرد و نواح میں مزید چند روز کارروائی جاری رہے گی لیکن فوجی کارروائی کے موجودہ حجم اور طریقۂ کار سے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ حکومت نے مذہبی شدت پسندی کے خلاف کسی سنجیدہ اقدام کا فیصلہ کیا ہے۔ فوجی کارروائی میں کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں آئی لیکن چند اردو اخبارات میں واویلا شروع ہو گیا ہے۔ نالہ و شیون کی اس مشق میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا جائے گا اور حکومت کے لب و لہجے میں اسی تناسب سے عذر خواہی بڑھتی جائے گی۔ مسلم لیگ (نواز) نے فوجی کارروائی پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کا کہنا ہے کہ پشاور کوکوئی خطرہ نہیں تھا۔ بیت اللہ محسود نے لشکر اسلام اور انصار الاسلام جیسی تنظیموں سے کسی تعلق کا اقرار کیے بغیر دھمکی دی ہے کہ اس کارروائی کے ردعمل میں پنجاب اور سندھ کو دہکتی ہوئی بھٹی میں بدل دیا جائے گا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس ہنگامے میں عدلیہ کا بحران پس منظر میں چلا گیا ہے بلکہ صدر پرویز مشرف کا ڈانواں ڈول اقتدار بھی وقتی طور پر خطرے سے نکلتا دکھائی دیتا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ طویل مدتی تناظر میں اس فوجی کارروائی سے کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوگی۔ طالبان اور ان سے منسلک خطرات پوری قوت سے پاکستان پر منڈلاتے رہیں گے۔ یہ آگ کہیں دور پہاڑوں میں لگی ہے مگر اس کا دھواں پاکستان کے شہروں سے اسی طرح گزرتا رہے گا۔ |
اسی بارے میں کرزئی کاحامی سابق طالبان کمانڈر ہلاک26 June, 2008 | پاکستان مذاکرات میں تعطل ختم26 June, 2008 | پاکستان باجوڑ: مجمع میں دو ’جاسوس‘ قتل27 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||