BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 June, 2008, 13:27 GMT 18:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذاکرات میں تعطل ختم

سوات میں مختلف کاروائیوں میں نشانہ بننے والے متاثرین کو بھی معاوضہ دیا جائے گا۔
صوبہ سرحد حکومت اور سوات کے مقامی طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد مذاکرات میں پیدا ہونے والا تعطل ختم ہوگیا ہے جبکہ فریقین نے امن بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام اختلافات ختم کرنے اور امن معاہدے کی مکمل پاسداری کا عزم کیا ہے۔

جمعرات کو پشاور میں صوبائی حکومت اور سوات کے مقامی طالبان کے مابین امن بات چیت کا ایک نیا دور منعقد ہوا جس میں سنئیر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور، افرسیاب خٹک، صوبائی وزراء اور طالبان کے نمائندوں نے شرکت کی۔

مذاکرات کے اختتام پر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے سنئیر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد حکومت اور مقامی عسکریت پسندوں کے درمیان جو ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا وہ ختم ہوگیا ہے اور فریقین نے امن معاہدہ برقرار رکھتے ہوئے تمام معاملات کو بات چیت سے حل کرانے کا عزم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوات میں گرفتار عسکریت پسندوں کو ضمانت دینے کے بعد جلد ہی رہا کردیا جائے گا جبکہ سوات میں مختلف کاروائیوں میں نشانہ بننے والے متاثرین کو بھی معاوضہ دیا جائے گا۔

’امیر بڑی مشکل سے مانے‘
 سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے بتایا کہ ان کے امیر بڑی مشکل سے حکومت سے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے پر راضی ہوئے ہیں
طالبان ترجمان

انہوں نے کہا کہ سوات میں عوامی مقامات پر قائم سکیورٹی چیک پوسٹوں کی تعداد میں بھی بتدریج کمی کرکے انہیں بہت جلد ختم کردیا جائے گا۔

بشیر بلور کا کہنا تھا کہ معاہدے کے مطابق حکومت اس بات کی پابند ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں تین ماہ کے اندر شریعت کا نفاذ کرے تاکہ وہاں کے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان نے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کرنے اور سرکاری املاک پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اس موقع پر سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے بتایا کہ ان کے امیر بڑی مشکل سے حکومت سے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے پر راضی ہوئے ہیں تاکہ ایک بار پھر تمام مسائل بات چیت کے راستے سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان تمام مطالبات کو جلد از جلد پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جن کے حل نہ ہونے پر بات چیت میں تعطل پیدا ہوگیا تھا۔

طالبان ترجمان نے سوات میں گزشتہ دو دنوں میں گیارہ کے قریب لڑکیوں کے سکولوں اور مالم جبہ میں پی ٹی ڈی سی ہوٹل پر ہونے والے حملوں سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ جب علاقے کے حالات خراب ہوجاتے ہیں تو پھر کوئی بھی اس قسم کی کاروائی کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی سے گفتگو میں دعوٰی کیا تھا کہ انہوں نے ان سکولوں کو آگ لگائی ہے جن میں ان کے مطابق سکیورٹی فورسز کے اہلکار تعینات ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد