باجوڑ: مجمع میں دو ’جاسوس‘ قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں طالبان نے ’جاسوسی کے الزام‘ میں بھرے مجمع میں ایک شخص کو گلا کاٹ کر جبکہ دوسرے کو گولی مار کر قتل کردیا ہے۔ اس دوران ہونے والی فائرنگ میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہےکہ مسلح طالبان نے جمعہ کی صبح دس بجے تحصیل ماموند کے ڈمہ ڈولہ نالے میں درجنوں عام شہریوں کی موجودگی میں پہلے ایک شخص کو گلا کاٹ کر ہلاک کردیا اور اس کے بعد انہوں نےدوسرے شخص کو گولیاں مار کر قتل کردیا۔ تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ہلاک کیے جانے والے دونوں افراد افغان شہری تھے۔ ان کے بقول افغانستان کے صوبہ کنڑ سے تعلق رکھنے والے جان ولی اور قاری ضیاء الاسلام نامی ان افراد کو امریکہ کے لیے جاسوسی کے شبہہ میں قتل کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان دونوں افراد کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ہی افغانستان میں تعینات امریکی فورسز نےچودہ مئی کو ڈمہ ڈولہ میں ایک گھر پر میزائل حملہ کیا تھا جس میں چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پوچھ گچھ کے دوران مقتولین نےاس بات کا اعتراف کیا تھا کہ وہ کافی عرصے سے باجوڑ میں امریکہ کے لیے مبینہ طور پر ’جاسوسی‘ کرتے رہے ہیں۔ تاہم ان کے اس دعوے کی آزاد یا سرکاری سطح پر کوئی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ مولوی عمر کا مزید کہنا تھا کہ قتل کے واقعہ کے بعد مسلح طالبان کی جانب سے کی گئی ہوائی فائرنگ میں بد نظمی پھیل گئی جس کے نتیجے میں وہاں پر موجود دس افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوگئے ہیں۔ تاہم عینی شاہدین زخمیوں کی تعداد چھ بتا رہے ہیں جنہیں قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں پر تین افراد کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں بالخصوص باجوڑ اور مہمند ایجنسی میں طالبان کی جانب سے بھرے مجمعے کے سامنے لوگوں کو قتل کیے جانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس سے قبل پچھلے سال مہمند ایجنسی کے طالبان نے چھ افراد کو ایک عوامی اجتماع کے سامنے گلا کاٹ کر ہلاک کردیا تھا۔ اس کے علاوہ مہمند ہی میں طالبان نے، بقول ان کے، ’زنا‘ کے الزام میں ایک جوڑے کو مبینہ طور پر سنگسار کردیا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عوامی اجتماعات میں طالبان کی جانب سے اس قسم کی کارروائیوں کی وجہ سے عام شہری خوف کے شکار ہوگئے ہیں اور اکثر دیکھا گیا ہے کہ اس قسم کے واقعات کے عینی شاہدین نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ اس قسم کے ’سرعام سزاؤں‘ کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ | اسی بارے میں ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول: طالبان 25 June, 2008 | پاکستان ڈیرہ: مقامی طالبان کمانڈر ہلاک01 June, 2008 | پاکستان ’طالبان کے دیس میں‘27 May, 2008 | پاکستان باجوڑ ایجنسی: نقاب پر پابندی13 March, 2008 | پاکستان قبائلی علاقے: عام شہری کی ہلاکتیں14 March, 2008 | پاکستان باجوڑ: طالبان جنگجوؤں کاگشت11 March, 2008 | پاکستان وزیرستان: مکان پر میزائل حملہ، آٹھ ہلاک28 February, 2008 | پاکستان شدت پسندوں کے بدلتے طریقۂ کار06 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||