BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 May, 2008, 05:45 GMT 10:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’طالبان کے دیس میں‘

وزیرستان
علاقے کی سیکورٹی ان جیسے نقاب پوش طالبان کے ہاتھوں میں ہے۔

کسی سفر کے آغاز پر اچھی خبر ملے تو سفر اچھا رہتا ہے لیکن اگر ایسے کسی سفر کے آغاز میں وہاں سے کوئی بری خبر آ جائے تو سفر سے پہلے ہر کوئی تذبذب کا شکار ہو جاتا ہے۔


پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے تازہ سفر سے چند گھنٹے قبل باجوڑ میں ایک صحافی ابراہیم خان کے قتل کی خبر نے اس سفر پر روانہ ہونے والے اکثر صحافیوں کو بھی اسی صورتحال سے دوچار کر دیا اور شاید اسی وجہ سے ان صحافیوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ یہ دورہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔

بعض لوگوں کے خیال میں اس قتل کا مقصد ہی صحافیوں کو بیت اللہ محسود سے ملنے سے روکنا تھا لیکن ساتھی کی موت کا یہ سانحہ صحافیوں کو نہ روک سکا۔ اسلام آباد اور پشاور سے آئے یہ صحافی شمالی وزیرستان میں ایک پٹرول پمپ پر جمع ہوئے اور میزبان یعنی مقامی طالبان کا انتظار کرنے لگے۔

صحافیوں کے لیے آرام سے بیٹھنا شاید ممکن نہیں ہوتا۔ اسی لیے جب اس پمپ پر ڈیزل کی کمی کی وجہ سے رش کی خبر ان کے ہاتھ آئی تو کیمرے رول ہونے لگے اور انٹرویو کیے جانے لگے۔ کافی دیر تک انتظار کے بعد بعض صحافیوں کو شک ہونے لگا کہ شاید صحافیوں کے اتنے بڑے گروپ کو دیکھ کر طالبان نے اپنی دعوت پر نظر ثانی کر لی ہے۔

خیر یہ خدشات بے بنیاد ثابت ہوئے اور مقامی طالبان کا ایک نمائندہ ہمیں لینے آن پہنچا۔ پھر اس کے بعد تو جیسے ایک بارات روانہ ہوگئی۔ طالبان کی قیادت میں اونچے نیچے اور کچے پکے راستوں پر گاڑیوں کی دوڑ شروع ہوگئی۔

وزیرستان
اونچے نیچے اور کچے پکے راستوں پر گاڑیوں کی دوڑ

شمالی وزیرستان میں داخل ہونے کے مقام کھجوری چیک پوسٹ سے لیکر جنوبی وزیرستان تک راستے میں اکثر سکیورٹی چوکیاں تباہ دیکھیں۔ ان کی یہ حالت یا تو خودکش حملوں یا پھر بعد میں طالبان کی جانب سے بلڈوز کیے جانے سے ہوئی۔

چھوٹی چھوٹی چوکیاں تو کیا سراروغہ جیسے بڑے قلعے بھی مکمل طور پر زمین بوس کر دیے گئے تھے۔ ان قلعوں کی واحد بچ جانے والی چیز ان کی مساجد تھیں۔ باقی تمام عمارتوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی تھی۔ نیم فوجی ملیشیا صرف دوسلی قلعے میں نظر آئی۔

اس کارروائی کا بظاہر مقصد سیکورٹی فورسز کے ان علاقوں میں دوبارہ آمد کے امکان کو ختم کرنا تھا۔ بیت اللہ محسود نے بھی اخباری کانفرنس میں کہا کہ فوج اب اگر واپس آئے گی بھی تو کہاں ٹھہرے گی۔ اس کے لیے تو اب کوئی جگہ ہی نہیں رہی۔

تمام راستے ننھے منے بچے ہاتھ لہرا کر گاڑیوں میں آئے مہمانوں کا استقبال کر رہے تھے۔ شمالی وزیرستان کے دلکش علاقے رزمک سے چند کلومیٹر پہلے کوہ پری کے مقام پر سستانے کے لیے رکے۔ ہلکی ہلکی بارش سے موسم انتہائی خوشگوار ہوگیا اور اس موڑ پر ایک چھوٹے سے کھوکھے میں فروخت ہو رہے پکوڑے منٹوں میں بک گئے۔

ایک گاڑی پر لکھی تحریر

رزمک کی طرح مکین کا علاقہ بھی انتہائی دلکش اور سیاحوں کی جنت ثابت ہوسکتا ہے۔ معتدل موسم، ہرے پہاڑ اور دوستانہ لوگ ہیں تو اجزائے ترکیب کسی بہترین سیاحتی مقام کی لیکن اس خطے کی پسماندگی اور شدت پسندی اسے یہ مقام حاصل کرنے سے روک رہی ہے۔

مکین میں ایک قبائلی کے مکان پر چھوٹی گاڑیاں چھوڑیں کیونکہ آگے کا راستہ کچا ہے جس پر سفر صرف جیپ میں ہی کیا جا سکتا تھا۔ وہیں اس مکان میں دو روسی ساخت کی عجیب سی توپیں دیکھیں جو بظاہر راکٹ داغنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ ساتھ ہی درجنوں راکٹ بھی پڑے ملے۔

’فور بائی فور‘ گاڑیوں میں اب ہماری منزل سراروغہ تھی لیکن شدید بارش اور ژالہ باری کی وجہ سے زمین کے کٹاؤ نے سفر میں خلل ڈال دیا۔ کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد طالبان نے دوسری جانب مزید گاڑیاں بھیجیں جن پر سفر دوبارہ شروع ہوا۔

راستے میں جگہ جگہ سائن بورڈز تھے جن پر ’بیت اللہ شہید چوک‘ اور قبائلی جنگجو کی تاریخ وفات لکھی ہوئی تھی۔ تاہم یہ بیت اللہ محسود کا نہیں بلکہ ایک دیگر جنگجو سردار کا ذکر تھا۔ ان سائن بورڈز نے یہ سوچنے پر ضرور مجبور کیا کہ پہاڑی راستوں میں چوک کہاں سے آئے۔

رات گئے سراروغہ پہنچے۔ وہاں پہلے سے موجود بیت اللہ محسود کے سینیئر ساتھیوں نے استقبال کیا۔ کسی نے داڑھی نہ ہونے پر شکایت کی تو کسی نے حلال کرنے کے لیے ساتھی کے حوالے کرنے جیسا بھدا مذاق کیا۔ ایک نے دریافت کیا کہ ایک دوسرے ریڈیو کا صحافی تو آپ کے ساتھ نہیں آیا، پوچھا کیوں تو بتایا کہ اسے حلال کرنا ہے وہ اپنی رپورٹوں میں انہیں شرپسند کہتا ہے۔

وزیرستان
بی بی سی کے کیمرہ مین عکس بندی کرتے ہوئے جبکہ ایک نوجوان طالب ان پر نظر رکھے ہوئے ہے

خیر صحافیوں کو ایک مکان میں رکھا گیا۔ گھنٹوں گپ شپ چلتی رہی اور صحافی طالبان اور طالبان صحافیوں سے میل ملاپ بڑھاتے رہے۔ وہیں معلوم ہوا کہ کس طرح پاکستانی سفیر طارق عزیزالدین کے اغواء کار دنبوں سے ہر رات ان کی خاطر تواضع کرتے رہے اور کس طرح جب ان کی حالت زیادہ خراب ہوئی تو اغواء کاروں کو جان کے لالے پڑے گئے۔

تمام صحافی چونکہ ایک کمرے میں نہیں سو سکتے تھے لہٰذا انہیں دو گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ تمام رات ’مبینہ‘ امریکی طیاروں کی پروازوں کے خوف سے تو کم لیکن ایک صحافی کے خطرناک خراٹوں سے ننید ایسی بھاگی کہ تھکن کے باوجود تمام رات تارے گنتے گزری۔

دوسری صبح دوبارہ گاڑیوں میں لادے گئے اور طالبان کے بقول پاکستانی سکیورٹی فورسز کا ظلم دیکھنے نکلے۔ ہرگاؤں کی اپنی ہی داستان مگر یک طرفہ۔ ساری تنقید کا ملبہ فوج پر گرتا رہا۔

صحافیوں کو خصوصی طور پر سپنکئی رغزئی لے جایا گیا جہاں چند روز قبل صحافیوں کے اسی طرح کے ایک گروپ کی میزبانی پاکستان فوج نے بھی کی تھی۔ وہاں کیے گئے فوجی دعوؤں کی مقامی قبائلیوں نے تردید کی۔

بمباری سے ہر کسی کا نقصان ہوا۔ کیا تاجر اور کیا عام شہری۔ طالبان ایک ایک مقام دکھانا چاہتے تھے لیکن چند تباہ شدہ مکانات کی سیر کے بعد صحافی تھک گئے اور کہا کہ بہت ہوگیا اب ’امیر صاحب‘ سے ملاقات کروائیں تاکہ واپسی کا سفر شروع ہو۔

سترہ سالہ ایک طالب وضو کرتے ہوئے

سپنکئی رغزئی سے واپسی پر ایک جگہ بتایا گیا کہ مقامی طالبان کے اہم رہنما قاری حسین موجود ہیں لہٰذا ان سے ملنے کے لیے رکے۔ ایک باغ میں بہت سے طالبان کو اکھٹا دیکھا۔ وہیں معلوم ہوا کہ بیت اللہ محسود بھی موجود ہیں۔تندرست نوجوان قاری حسین کو طالبان کے خودکش حملہ آوروں کا انچارج یا استاد کہیں تو شاید غلط نہیں ہوگا۔ شاید کوئی اجلاس جاری تھا۔

بیت اللہ محسود ایک ہاتھ میں تین لاکھ کی چھوٹی سی لیکن بڑے کام کی بندوق لیے آئے۔ بندوق کے ایک کونے میں ’امر اللہ‘ لکھا تھا۔ سلام دعا کے بعد قریب ہی ایک سرکاری ہائی سکول کا رخ کیا جہاں پریس کانفرنس اور کھانے کا بندوبست تھا۔

سرکاری سکول کی وسیع عریض عمارت دیکھ کر رونا سا آیا۔ بتایا گیا کہ اسے پہلے پاکستان فوج نے کیمپ کے طور پر استعمال کیا اور اب یہ شدت پسندوں کے قبضے میں ہے۔ جس مقصد کے لیے یہ سکول بنا تھا وہ کب پورا ہوگا معلوم نہیں۔

کلاس روم میں بلیک بورڈوں پر ’طالبان زندہ باد‘ اور ’طالبان بہ منے‘ (طالبان کو مانو گے)‘ جیسے نعرے چاک سے لکھے ہوئے تھے۔

بیت اللہ محسود نے یہ کہتے ہوئے اجازت مانگی کہ یہاں مزید ٹھہرنا اچھا نہیں۔۔۔

ایک کمرے میں اخباری کانفرنس ہوئی اور فوراً صحافیوں نے اپنی حفاظت کا بھی خیال نہ رکھتے ہوئے سیٹلائٹ فون پر خبریں دینا شروع کر دیں۔ شاید اتنے سیٹلائٹ فون دیکھ کر طالبان کو بھی تشویش ہوئی اور بیت اللہ محسود نے یہ کہتے ہوئے اجازت مانگی کہ یہاں مزید ٹھہرنا اچھا نہیں۔

صحافی واپس روانہ ہوئے لیکن جنڈولہ کا بہتر سڑک والا راستہ حکومتی اداروں کی وجہ سے محفوظ قرار نہ دیتے ہوئے ہمیں مکین کے لمبے اور تکلیف دہ راستے سے جانے کا مشورہ دیا۔ اس طرح ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی وزیرستان کا سفر حیرت، تجسس اور اہمیت سے بھرپور رہا۔

گھروں کو واپسی
وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی
بیت اللہ محسودطالبان کو معاوضہ
وزیرستان کے طالبان کو کروڑوں کی ادائیگی
وزیرستان آپریشن
’قبائلی علاقوں میں 400 ہلاک ہزاروں بےگھر‘
شدت پسندحامی یا مخالف
کیا ملا نذیر حکومت کے خلاف تیاری کر رہے ہیں
اسی بارے میں
درۂ آدم خیل، نیا محاذ
18 May, 2008 | پاکستان
پشاور صرف چالیس کلومیٹر
26 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد