کرزئی کاحامی سابق طالبان کمانڈر ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ اور چمن کے درمیان قلعہ عبداللہ کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سابق طالبان کمانڈر اور اب افغان صدر حامد کرزئی کے حمایتی حاجی محمد رفیق آغا کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے ۔ قلعہ عبداللہ سے مقامی لوگوں کے مطابق رفیق آغا اہل خانہ کے ہمراہ قندھار سے کوئٹہ آ رہے تھے اور راستے میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کی ہے جس سے وہ موقع پر ہلاک ہو گئے ہیں۔ حاجی محمد رفیق آغا طالبان دور میں کمانڈر تھے لیکن افغان صدر حامد کرزئی کے اقتدار میں آنے کے بعد رفیق آغا نے حامد کرزئی کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ رفیق آغا ان دنوں قندھار علماء شوری کونسل کے صوبائی سربراہ تھے اور حامد کرزئی کے دست راست سمجھے جاتے تھے۔
پولیس کے مطابق رفیق آغا نے مظاہرین سے راستہ مانگا لیکن انکار پر انھوں نے گاڑی ایک طرف کھڑی کردی اور اس دوران ان پر نامعلوم افرادنےفائرنگ کردی۔ چمن اور قلعہ عبداللہ میں کافی عرصہ سے امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں قتل کی وارداتوں کے علاوہ چوری ڈکیتی اور رہزنی کے واقعات عام ہو چکے ہیں اور اس بارے میں مقامی لوگوں نے بارہا احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ | اسی بارے میں ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول: طالبان 25 June, 2008 | پاکستان مذاکرات میں تعطل ختم کرنےکا فیصلہ25 June, 2008 | پاکستان ٹانک: سکیورٹی فائرنگ، دو ہلاک26 June, 2008 | پاکستان جنڈولہ: ہلاکتوں کی تعداد چوبیس 25 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||