مذاکرات میں تعطل ختم کرنےکا فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات کے طالبان کی شورٰی نے امن معاہدے کو برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات میں تعطل کو ختم کرنے کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔ طالبان کا یہ اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا جب گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں دو طالبان اور دو اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔ طالبان ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبائی حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو برقرار رکھنے اور مذاکرات میں تعطل کو ختم کرنے کا فیصلہ مولانا فضل اللہ کی زیر صدارت سو رکنی شورٰی کے تین روزہ اجلاس میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے اراکین جمعرات کو صوبائی حکومت کے ساتھ ملاقات کریں گے جس میں امن معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان موجود خدشات اور تحفظات پر بات چیت ہوگی۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سوات میں تعینات فوج کو جلد سے جلد واپس بلانا ہوگا۔ انکا کہنا تھا کہ طالبان اس وقت تک سکیورٹی فورسز اور دیگر حکومتی املاک پر حملہ نہیں کریں گے جب تک ان کے ساتھیوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ گزشتہ روز لڑکیوں کے سکولوں کو نذرِآتش کیے جانے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مسلم خان نے دعوٰی کیا کہ انہوں نے ان سکولوں کو آگ لگائی ہے جہاں پر بقول ان کے سکیورٹی فورسز کے اہلکار تعینات ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ طالبان شورٰی کا یہ فیصلہ اس لحاظ سے ایک حوصلہ افزا عمل ہے کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران سوات میں پر تشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور امن معاہدے کے ایک ماہ بعد پہلی مرتبہ طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان پہلی مرتبہ براہ راست جھڑپیں ہوئی ہیں۔اس کے علاوہ لڑکیوں کے تین سکولوں کو بھی نذرِ آتش کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں سوات مذاکرات: تعطل برقرار21 June, 2008 | پاکستان سوات میں لڑائی، دو طالبان ہلاک24 June, 2008 | پاکستان ’طالبان رہا نہ ہوئےتو معاہدہ خطرےمیں‘06 June, 2008 | پاکستان سرحد حکومت سے روابط منقطع:طالبان 17 June, 2008 | پاکستان ’نئے امن معاہدے پرانوں سے بہتر‘02 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||