سکول، ڈسپنسری پر طالبان کا’قبضہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ مسلح طالبان نے لڑکیوں کے سکول اور ایک ڈسپنسری پر مبینہ طور پر قبضہ کر لیا ہے۔ باجوڑ کے ایک پولیٹیکل اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر اور منگل کی شب کو مسلح طالبان نے صدر مقام خار سے تقریباً پچیس کلومیٹر دور تحصیل ناوگئی کے علاقے چار منگ میں واقع گرلز پرائمری سکول ملنگی اور ایک ڈسپنسری پر قبضہ کر لیا ہے۔ ان کے بقول قبضہ چھڑوانے کے لیے طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک قبائلی جرگہ بھیجا گیا ہے۔ اس سلسلے میں طالبان سے رابطے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ طالبان نے چند دن قبل لڑکیوں کے سکولوں کو دینی مدارس میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ قبائلی علاقوں بالخصوص صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں لڑکیوں کے سکولوں کو نشانہ بنانے کے درجنوں واقعات پیش آئے ہیں تاہم قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں طالبان کی جانب سے سکولوں پر قبضہ کے بعد باجوڑ میں بھی اس نوعیت کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ | اسی بارے میں جرگہ: لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی 09 May, 2008 | پاکستان گرلز سکول میں ایک اور دھماکہ13 June, 2008 | پاکستان بچے زیادہ، تعلیم غیر معیاری17 April, 2008 | پاکستان ’سنگسارشدہ جوڑے کی لاشیں واپس‘02 April, 2008 | پاکستان باجوڑ ایجنسی: نقاب پر پابندی13 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||