BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 July, 2008, 09:43 GMT 14:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سکول، ڈسپنسری پر طالبان کا’قبضہ‘

سکول
قبضہ چھڑوانے کے لیے طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک قبائلی جرگہ بھیجا گیا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ مسلح طالبان نے لڑکیوں کے سکول اور ایک ڈسپنسری پر مبینہ طور پر قبضہ کر لیا ہے۔

باجوڑ کے ایک پولیٹیکل اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر اور منگل کی شب کو مسلح طالبان نے صدر مقام خار سے تقریباً پچیس کلومیٹر دور تحصیل ناوگئی کے علاقے چار منگ میں واقع گرلز پرائمری سکول ملنگی اور ایک ڈسپنسری پر قبضہ کر لیا ہے۔

ان کے بقول قبضہ چھڑوانے کے لیے طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک قبائلی جرگہ بھیجا گیا ہے۔ اس سلسلے میں طالبان سے رابطے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔

طالبان نے چند دن قبل لڑکیوں کے سکولوں کو دینی مدارس میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ قبائلی علاقوں بالخصوص صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں لڑکیوں کے سکولوں کو نشانہ بنانے کے درجنوں واقعات پیش آئے ہیں تاہم قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں طالبان کی جانب سے سکولوں پر قبضہ کے بعد باجوڑ میں بھی اس نوعیت کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد