BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بچے زیادہ، تعلیم غیر معیاری

پرائیوٹ سکول
سرکاری سکول کے اخراجات بنسبت پرائیوٹ سکول میں بچے کو پڑھانے کے اخراجات آدھی ہوتے ہیں
پاکستان پنجاب کی آدھی آبادی ایسے دیہاتوں میں رہتی ہے جہاں والدین اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے سات سے آٹھ سکولوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

یہ بات عالمی بینک کی جانب سے شائع ہونے والی نئی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

اس رپورٹ میں پاکستان میں پرائمری سطح کے پرائیوٹ سکولوں میں ہونے والے داخلوں کے بے تحاشا اضافے کے تناظر میں تعلیمی پالیسیوں کا ازسر نو جائزہ لینے پر زور دیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں پاکستان کے ایک سو بارہ دیہاتوں کے تمام سرکاری و پرائیوٹ پرائمری سکولوں سے متعلق سروے کی تحقیقات اور نتائج کو پیش کیا گیا ہے۔

یہ رپورٹ پنجاب کے سکولوں میں علمی اور تعلیمی کامیابی (لیپس)رپورٹ عالمی بینک، ہارورڈ یونیورسٹی اور پومونا کالج کے محققین کے اشتراک سے بنی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ دو ہزار سے دو ہزار پانچ کے درمیان پنجاب میں سکولوں کی تعداد بتیس ہزار سے بڑھ کر سینتالیس ہزار ہو گئی اور دو ہزار پانچ کے اختتام پر پرائمری کلاس میں داخل ہونے والے ایک تہائی بچے پرائیوٹ سکولوں میں پڑھ رہے تھے۔

ان کے مطابق سنہ دو ہزار سے دو ہزار پانچ کے دوران سرکاری سکولوں میں مجموعی داخلوں کی تعداد میں دس فیصد اضافہ ہوا تاہم تعلیمی معیار غیر اطمینان بخش رہا۔ لیکن پرائیوٹ سکول کے بچوں نے اسی دیہات کے سرکاری سکولوں کی بنسبت خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

 سنہ دو ہزار سے دو ہزار پانچ کے درمیان پنجاب میں سکولوں کی تعداد بتیس ہزار سے بڑھ کر سینتالیس ہزار ہو گئی اور دو ہزار پانچ کے اختتام پر پرائمری کلاس میں داخل ہونے والے ایک تہائی بچے پرائیوٹ سکولوں میں پڑھ رہے تھے۔
رپورٹ

’دراصل سرکاری سکولوں کے بچوں کو پرائیوٹ سکول کے تیسری جماعت کے بچوں کی سطح تک پہنچنے کے لیے ڈیڑھ سے ڈھائی سال اضافی پڑھائی کرنا پڑتی ہے۔’

پرائیوٹ سکولوں کے شاندار تعلیمی نتائج حاصل کرنے کے لیے بھاری اخراجات نہیں کرنے پڑتے بلکہ سرکاری سکول کے اخراجات مبلغ دو ہزار روپے فی سال کی بنسبت پرائیوٹ سکول میں بچے کو پڑھانے کے اخراجات مبلغ ہزار روپے فی سال ہیں۔

اس رپورٹ میں پاکستانی حکومت سے کہا گیا ہے کہ پرائیوٹ سکولوں سے مقابلہ کرنے کے بجائے سرکاری و پرائیوٹ شراکت کے امکانات کا جائزہ لے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہےکہ سرکاری سکولوں میں تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے اساتذہ کی بھرتی اور ان کے معاوضے پر دوبارہ غور کرنا ہو گا۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اساتذہ کے اضافی فرائض کو کم کیا جانا چاہیے جیسے ورکشاپوں میں شرکت کرنا اور پولیو کی وویکسین کا اہتمام کرنا۔

اسی بارے میں
کہانی ایک سکول کی
08 December, 2006 | پاکستان
موسیقی کی کلاسز، احتجاج
11 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد