’تعلیم کی بنیاد سچا اسلام‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’پاکستان میں تعلیم‘ کے عنوان سے حکومتِ پاکستان کے جاری کردہ’وائٹ پیپر‘ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی نظریاتی اساس اسلام ہے لیکن طالب علموں کے ذہنوں کو کٹھ ملائیت سے پراگندہ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ بارہ ابواب اور تہتر صفحات پر مشتمل وائٹ پیپر قومی تعلیمی پالیسی پر نظر ثانی کرنے والی ٹیم کی جانب سے مختلف سرکاری اور غیر سرکاری حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ اس پر بحث کی جا سکے۔ اس میں تعلیم پر اخراجات میں دو سے تین گنا اضافہ، اسلامیات کو بی اے تک کی بجائے میٹرک تک پڑھانے، مادری زبانوں میں پرائمری تعلیم اور انگریزی زبان میں اعلٰی تعلیم دینے، مدرسوں اور او لیول اور اے لیول کے نظام ہائے تعلیم کو جاری رکھنے، آرٹس اور سائنس کے ساتھ ساتھ تکنیکی علوم میں میٹرک کا نیا نظام شرو ع کرنے اور فرقہ وارانہ تفصیلات نصاب سے خارج کرنے جیسی سفارشات شامل ہیں۔ وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ ہر تعلیمی پالیسی کی ایک نظریاتی بنیاد ہونی چاہیے اور پاکستان کی فطری اور قدرتی نظریاتی اساس اسلام ہے۔ اس کے مطابق اسلام کی تعلیمات کے لحاظ سے ہی پاکستان کی تعلیمی پالیسی کا تعین ہونا چاہیے لیکن اسلام کو ایک جامد اور کٹھ ملائیت پر مبنی ایسے مذہبی نظریہ (ڈوگما) کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے جو جہالت اور ماضی کی یاد پر مبنی ہو۔ اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ سو برسوں میں مسلم دنیا میں علم و فضل کی عمومی طور پر حوصلہ شکنی کی گئی اس لیے اسلام کو اس کے تحرک سے محروم کرتے ہوئے اس کی تعبیر ایک جامد کٹھ ملائیت کی شکل میں کی گئی۔
وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ ’اسلام مذہب کی روح کو چھیڑے بغیر الفاظ کی بدلتے ہوئے ماحول کے مطابق مسلسل تشریح کی حوصلہ افزائی کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے اسلام کا یہ تحرک جو اسے کٹھ ملائیت سے ممتاز کرتا ہے پاکستان کی تعلیمی پالیسی میں منعکس نہیں ہو سکا‘۔ اس دستاویز میں تجویز کیا گیا ہے کہ ’کٹھ ملائیت پر مبنی مذہب کو طالب علموں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے‘۔ وائٹ پیپر کے مطابق ’ اسلامی نظریہ کو ہی تعلیمی پالیسی کا تعین کرنا چاہیے اور پاکستانی مسلمان کو وہ مواقع مہیا کیے جانے چاہئیں جن سے وہ مذہب کے بنیادی اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے اور سچے اسلام کا اپنی زندگی پر مسلسل اطلاق کرتے ہوئے خود کو سچے مسلمان کے طور پر پروان چڑھا سکے‘۔ پاکستانی معاشرہ میں تحقیق کے زوال کا پس منظر بیان کرنے کے بعد اس دستاویز میں بتایا ہے کہ ’پاکستان کا نوجوان مسلمان چمکتے ہوئے اسلحہ سے لیس قرون وسطی کے سورما کی طرح ہے۔۔۔اور متعصب کٹر پن میں ڈوبا ہوا ہے‘۔ قرطاس ابیض کا کہنا ہے کہ ریاست کی طرف سے دی جانی والی تعلیم میں فرقہ وارانہ اختلافات اور تقسیم کرنے والی باتوں پر توجہ مرکوز نہیں ہونی چاہیے بلکہ تعلیم کا اعلی تر مقصد برداشت و تحمل اور محاذ آرائی سے آزاد معاشرہ ہونا چاہیے۔ پیپر میں سفارش کی گئی ہے کہ سرکاری سکولوں میں دی جانی والی اسلامی تعلیم میں بڑی تبدیلیاں کی جانی چاہئیں اور اسلامی تعلیم بچے کو پہلے دس سال تک دی جائے۔ یاد رہے کہ موجودہ نظام میں اسلامیات کو بی اے تک لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ دستاویز کے مطابق طالب علم کو پہلی جماعت سے پانچویں تک مسلمانوں کے نظام اقدار کی تعلیم دی جائے اور اس مقصد کے لیے قرآن میں شامل قصوں کو کہانیوں کی صورت میں پڑھایا جاسکتا ہے۔ یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ چھٹی جماعت سے طالبعلموں کو زیادہ رسمی اسلامی تعلیمات پڑھائی جائیں جو تمام فرقوں میں یکساں اور مشترک ہیں۔ قرطاس ابیض کہتا ہے کہ گو کچھ مذہبی رسوم کو پورا کرنے کے لیے قرآن کا زبانی یاد ہونا ضروری ہے لیکن معاشرے اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ فرد کو ایسے رویوں اور خیالات کو سیکھنے میں مدد دے جو اسلام تمام مسلمانوں سے چاہتا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی نظرِ ثانی ٹیم کا کہنا ہے کہ نصاب میں مذہب پر عمل کی ایسی تفصیلات شامل نہیں ہونی چاہئیں جو اختلاف پیدا کرنے والی ہوں اور یہ تفصیلات سکھانے کا کام خاندان کی ذمہ داری سمجھا جائے۔ تعلیم پر قرطاس ابیض میں پانچویں جماعت تک پرائمری تعلیم مادری زبان میں، سیکنڈری تعلیم میں سائنسی علوم انگریزی میں اور باقی علوم اردو میں اور اعلٰی تعلیم انگریزی زبان میں دینے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔تاہم اردو کو پہلی جماعت سے لازمی مضمون کے طور پر پڑھانے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ تجویز کیا گیا ہے کہ انگریزی کو بطور مضمون تیسری جماعت سے پڑھانا شروع کیا جائے۔ اس دستاویز میں سفارش کی گئی ہے کہ حکومت سرکاری سکولوں تک رسائی اور وہاں تعلیم کا معیار اتنا بلند کرے کہ لوگوں کو انگلش میڈیم اسکولوں اور مدرسوں میں نہ جانا پڑے۔ تاہم قومی تعلیمی پالیسی نظر ثانی ٹیم نے مدرسوں کا نظام تعلیم جاری رکھنے لیکن اس میں جدید مضامین شامل کرنے کی سفارش کی ہے۔ قرطاس ابیض میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے ساتھ ساتھ اے لیول اور او لیول کے امتحانات کو بھی جاری رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ وائٹ پیپر میں مختلف ٹیکسٹ بورڈز کی موجودہ نصابی کتابوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیاگیا ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ملک میں پانچ سے نو سال عمر کے بچوں کی آبادی تقریبا بیس کروڑ ہے جبکہ ان میں سے تینتیس لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ اس کے مطابق پرائمری جماعت سے تعلیم چھوڑ دینے والے بچوں کی شرح اکتیس فیصد سے زیادہ جبکہ آٹھویں جماعت سے پہلے تعلیم چھوڑ دینے والوں کی شرح تیس فیصد ہے۔ سکولوں سے بچوں کے تعلیم ادھوری چھوڑ جانے کی شرح کم کرنے کے لیے تجویز کیا گیا ہے کہ حقدار بچوں کو مفت کتابیں، یونیفارم، کھانا اور وظائف دیے جائیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ پرائمری تعلیم پانچ سال کی بجائے چھ سال کی عمر سے شروع کی جائے۔ پیپر میں تمام پرائمری سکولوں کو مڈل سکولوں کا درجہ دینے کی تجویز دی گئی ہے اور کالجوں میں نویں دسویں جماعت کی تعلیم شروع کرنے اور ہائی اسکولوں میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کی تعلیم شروع کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ میٹرک میں طالبعلموں کو تین طرح کے گروپوں۔ انسانی و معاشرتی علوم، سائنسی علوم اور فنی تعلیم میں تقسیم کیا جائے۔ اس وقت پاکستان میں میٹرک کی سطح پر سائنس اور آرٹس کے دو گروپ ہوتے ہیں۔ وائٹ پیپر نے چھٹی جماعت سے آٹھویں جماعت تک طالبعلموں میں زبان اور سائنس کے مضامین کے ذریعے فنی، تجارتی اور دستکاری کی تعلیم کا شعور پیدا کرنے کی سفارش کی ہے۔ وائٹ پیپر کہتا ہے کہ حکومت تعلیم پر اخراجات اگلے پانچ برسو ں میں (دو ہزار بارہ تک) اپنی کل مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے چار فیصد اور اگلے دس برسوں میں (دو ہزار پندرہ تک) چھ فیصد تک بڑھائے۔اس وقت پاکستان اپنے جی ڈی پی کا صرف ڈھائی فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔ وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ یہ حکومت پاکستان کا پالیسی بیان نہیں ہے بلکہ بحث شروع کرنے کے لیے ایک مسودہ ہے۔ | اسی بارے میں ’تعلیم کو ٹھیک کرنا ہے‘13 December, 2006 | پاکستان مدارس عدالت سے رجوع کریں گے31 December, 2005 | پاکستان دینی مدارس کے اتحاد کی دھمکی28 December, 2005 | پاکستان ’تعلیمی نصاب ازسرِ نو مرتب ہوگا‘20 December, 2005 | پاکستان بش کتاب میں رہیں گے، نصاب میں نہیں 05 December, 2005 | پاکستان نصابی کتاب میں جارج بش پر نظم01 December, 2005 | پاکستان ’اماں جی‘ نصابی کتابوں میں30 November, 2005 | پاکستان تعلیمی اداروں پر 61 کروڑ 40 لاکھ 19 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||