سوات جھڑپیں: پچیس اہلکار اغوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحدکے ضلع سوات میں اطلاعات کے مطابق منگل کی صبح سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں دو عام شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں جبکہ طالبان نے پچیس اہلکاروں کو اغواء کرنے کا دعوی کیا ہے۔ دوسری طرف پیر کی رات مسلح افراد نے تین سرکاری اہلکاروں کو گولیاں مار کر قتل کردیا ہے۔ سوات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق منگل کی صبح تحصیل کبل کے علاقے اخون کلی میں طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہون والی جھڑپ میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ان کے بقول اس دوران ایک گھر پر مارٹر کا گولہ لگا جس میں دو عام شہری ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔ سوات میڈیا سینٹر کے انچارج میجر فاروق نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان ہونے والی جھڑپ کی تصدیق کی تاہم انہوں نے عام لوگوں کو پہنچنے والے جانی نقصانات سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سکیورٹی فورسز دیولئی چیک پوسٹ پر طالبان کے حملے کے بعد وہاں پر موجود اہلکاروں کی مدد کے لیے جارہے تھے کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ میجر فاروق نے مزید بتایا کہ منگل کی صبح مسلح افراد نے دیولئی پولیس اسٹیشن پر حملہ کرکے کئی اہلکاروں کو اغواء کرلیا ہے تاہم وہ مغوی اہلکاروں کی حتمی تعداد نہیں بتاسکے۔ ان کے مطابق اغواء ہونے والوں میں پولیس اور فرنٹیئر کانسٹبلری کے اہلکار شامل ہیں۔ ان کے بقول منگل کی صبح ہی کو سکیورٹی فورسز نے چھ مبینہ شدت پسندوں کو اسلحہ سمیت گرفتار کرلیا ہے جس میں بقول ان کے دو اہم مقامی طالبان کمانڈر بھی شامل ہیں۔ طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھیوں نے دیولئی پولیس اسٹیشن پر حملہ کرکے پچیس کے قریب اہلکاروں کو اغواء کرلیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سوات سے فوج کے مکمل انخلاء تک اس قسم کے حملے جاری رہیں گے۔ دوسری طرف سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ پیر کی رات نامعلوم مسلح افراد نے تین سرکاری اہلکاروں کو گولیاں مارکر قتل کردیا ہے۔ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کا تعلق ایک حساس ادارے سے بتایا جاتا ہے۔ سوات کے مقامی طالبان نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ سوات سے ملنے والی اطلاعات میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پیر کی رات مٹہ تحصیل کے علاقے سج بنڑ میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق تینوں اہلکار ایک گاڑی میں جا رہے تھے کہ ایک درجن سے زائد مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے تینوں اہلکار موقع ہی پر ہلاک ہوگئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک شدگان کا تعلق وفاقی حساس ادارے سے بتایا جاتا ہے۔ سوات میڈیا سنٹرکے ترجمان میجر فاروق نے تین سرکاری اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان اہلکاروں کا تعلق فوج سے نہیں ہے۔ دریں اثناء تحریک طالبان سوات نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ سوات میں مقامی طالبان ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ مذکورہ سرکاری اہلکاروں کو ان کے دو گرفتار ساتھیوں پر تشدد کے بدلے میں ہلاک کیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حساس ادارے کے ان تین اہلکاروں نے ان کے دو ساتھیوں پر بے پناہ تشدد کیا تھا اور ان کے ساتھی آجکل ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور کچھ کھا پی بھی نہیں سکتے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے رونیال کے علاقے میں کرفیو نافذ کر کے تلاش شروع کردی اور کئی مشتبہ افراد کوگرفتار کیا ہے۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے کانجو ایف سی کیمپ سے مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شدید شیلنگ کا سلسلہ شروع کیا ہے اور تمام علاقے میں غیر اعلانیہ کرفیو نافد ہے۔ | اسی بارے میں باجوڑ میں فوجی چوکی خالی28 July, 2008 | پاکستان وزیرستان، حملے میں سات ہلاک28 July, 2008 | پاکستان ’سوات: تین سرکاری اہلکار قتل‘29 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||