وزیرستان، حملے میں سات ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں پیر کی صبح ایک میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے سات افراد میں مصر کا ایک باشندہ ابوخباب المصری بھی شامل تھا۔ اس بات کی تصدیق وزیرستان میں مقامی طالبان نے کر دی ہے لیکن پاکستانی فوج کے ترجمان ابھی لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ صدر مقام وانا میں مقامی طالبان ذرائع کا کہنا تھا کہ ابو خباب المصری کافی عرصے سے اس علاقے میں موجود تھے۔ مقامی سرکاری حکام کو بھی شک ہے کہ مارے جانے والوں میں ایک پچاس سالہ مصری باشندہ بھی شامل ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کی تصدیق میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ ابو خباب المصری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کے ماہر تھے۔ اگر یہ وہی مصری ہیں جو امریکہ کو بھی مطلوب ہیں تو ان کے سر پر امریکہ نے پچاس لاکھ ڈالر کے انعام کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔ سن دو ہزار چھ میں بھی یہ خبر آئی تھی کہ مصری ایک حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں لیکن یہ خبر بعد میں غلط ثابت ہوئی۔ میزائل سرحد پار افغانستان سے فائر کیا گیا تھا اور اس کا نشانہ اعظم وارسک نامی گاؤں کا ایک گھر بنا۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ.’اس علاقے میں ایسا واقعہ پیش آیا ہے تاہم یہ حملہ میزائل کا تھا، راکٹ کا تھا یا پھر یہ کوئی بم دھماکہ ہوا، اس بارے میں ہم ابھی نہیں جانتے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ’اتحادی افواج اپنی کارروائیوں سے قبل ہم سے معلومات کا تبادلہ نہیں کرتی ہیں۔‘ پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بات واضح نہیں کہ یہ میزائل افغانستان میں سرگرم طالبان یا پھر اتحادی افواج کی جانب سے داغا گیا۔ پاکستانی علاقے میں سرحد پار کارروائی کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ ماہِ رواں کے اوائل میں بھی پاک افغان سرحد کے قریب انگور اڈہ میں امریکہ اور ’اتحادیوں‘ کی گولہ باری سے ایک پاکستانی چیک پوسٹ پر تعینات آٹھ فوجی زخمی ہوگئے تھے اور پاکستان نے اس حملے پر افغانستان میں تعینات اتحادی افواج سے شدید احتجاج کیا تھا۔ جبکہ اس سے قبل اسی برس گیارہ جون کوامریکی طیاروں نے پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ایک ٹھکانے پر بمباری کر دی تھی جس کے نتیجہ میں گیارہ اہلکاروں سمیت انیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ جنوبی وزیرستان میں سوموار کو صبح ہوئے ایک مبینہ راکٹ حملے کی مقامی طالبان نے مذمت کرتے ہوئے اسے امریکی جاسوس طیاروں کی کارروائی قرار دیا ہے۔ مقامی طالبان کے سربراہ ملا نذیر کی جانب سے جاری ایک بیان میں اس حملے میں سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ بیان کے مطابق یہ حملہ زڑا لیٹہ کے مقام پر ایک مدرسے پر ہوا جس میں ایک معلم سمیت چھ نوجوان عمر طلبہ ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم بعض اطلاعات کے مطابق مرنے والوں میں چند غیر ملکی بھی شامل تھے۔ ملا نذیر کا موقف تھا کہ امریکہ افغانستان میں شکست سے دوچار ہے اس لیئے بقول ان کے بےگناہ لوگوں پر بمباری کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی طیاروں کی پروازوں سے علاقے میں لوگ ذہنی پریشانی سے دوچار ہیں۔ ملا نذیر کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حملوں سے ’مجاہدین’ کی تعداد میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جتنا امریکی ظلم بڑھے گا اتنا ہی طالبان کا جذبہ بڑھے گا۔ | اسی بارے میں ’نیٹو، امریکی حملے کا خطرہ نہیں‘19 July, 2008 | پاکستان ’انگور اڈہ گولہ باری طالبان نے کی‘12 July, 2008 | پاکستان امریکی گولہ باری، آٹھ فوجی زخمی11 July, 2008 | پاکستان ’فاٹا میں پہلے سے زیادہ شدت پسند‘11 July, 2008 | پاکستان جوابی کارروائی کا دعویٰ12 July, 2008 | پاکستان امریکی حملہ بزدلانہ تھا: پاک فوج11 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||