’نیٹو، امریکی حملے کا خطرہ نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیرِ دفاع احمد مُختار نے کہا ہے کہ پاکستان پر نیٹو یا امریکہ کے حملے کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور موجودہ حکومت حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ سنیچر کو دفاع کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت میں شامل مُختلف افراد کی طرف سے جو بیانات آ رہے ہیں پاکستانی حکومت اُن کا جائزہ لے رہی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر نیٹو فورس کی غیر معمولی نقل و حرکت کے بارے میں مقامی میڈیا میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ افواج پاکستان کے علاقے میں خود سے کارروائی کریں جس کی حکومت شروع دن سے ہی تردید کر رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چند روز قبل کابل میں بھارتی سفارتخانے کے باہر ہونے والے خودکُش حملے کے حوالے سے پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی پر جو الزامات لگ رہے ہیں اُن کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ وزیر دفاع نے واضح کیا کہ پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی اور شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ واضح رہے کہ افغان صدر حامد کرزئی اور بھارت کی طرف سے کابل میں بھارتی سفارتخانے کے باہر ہونے والے خودکُش حملے کا الزام پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی پر لگایا گیا تھا۔ اس حملے میں بھارت کے فوجی اتاشی سمیت تیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس واقعہ اور پاکستانی قبائلی علاقوں سے افغان علاقوں میں دراندازی کو بنیاد بنا کر افغان حکومت نے پاکستان کے ساتھ ہر قسم کے مذاکرات ختم کر دیے تھے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایک مشترکہ قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں نیٹو اور امریکی طیاروں کی پاکستانی حدود کی خلاف ورزی اور افغان صدر حامد کرزئی کے بیان کی مذمت کی گئی۔ پاکستان مسلم لیگ قاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹر نثار میمن کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں دہشتگردی کے خلاف حکومتی اقدامات کی مکمل حمایت کی گئی اور کہا گیا کہ پاکستانی افواج کسی بھی غیر ملکی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ اجلاس میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف جاری جنگ میں متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بُلانے کا بھی مُطالبہ کیا گیا۔ | اسی بارے میں افغانستان: امریکی فوج میں اضافے پر غور17 July, 2008 | پاکستان ’دہشتگردی، اتفاق رائے کی ضرورت‘ 15 July, 2008 | پاکستان ’الزام تراشیوں سے گریز کریں‘ 15 July, 2008 | پاکستان ’ایسے بیانات سے کشیدگی بڑھتی ہے‘15 July, 2008 | پاکستان ’گیارہ ستمبر جیسے حملوں کا خدشہ ہے‘14 July, 2008 | پاکستان ’پاکستان میں کارروائی نقصان دہ‘13 July, 2008 | پاکستان ’بغیر ثبوت الزام تراشی صحیح نہیں‘13 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||