BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 July, 2008, 11:39 GMT 16:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’الزام تراشیوں سے گریز کریں‘

دفترِ خارجہ نے افغان الزامات پر باقاعدہ ردعمل ظاہر کیا ہے
پاکستان نے اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور افواج پر افغانستان کی جانب سے عائد کردہ الزامات مسترد کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ کرزئی حکومت اشتعال انگیز بیانات اور الزام تراشی سے گریز کرے گی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ’افغانستان کے صدر حامد کرزئی اور افغان کابینہ کے الزامات بے بنیاد ہیں اور اس طرح کے الزامات سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا اور دو طرفہ تعلقات خراب ہوں گے اور پاک افغان تعلقات میں مصنوعی بحران پیدا ہوگا،۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی اور افغانستان کی کابینہ نے پیر کے روز کہا تھا کہ ان کے ملک میں ہونے والے حالیہ حملوں میں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں اور فوج کا ہاتھ تھا۔

افغانستان حکومت نے احتجاج کرتے ہوئے پاکستان سے ملاقاتوں کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا تھا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے ملاقاتیں معطل کرنے کے فیصلے کے بارے میں افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ بلا وجہ افغان کابینہ نے اہم دو طرفہ اور علاقائی معاملات کو نظر انداز کیا ہے اور اس فیصلے کے ’سیکورٹی کی صورتحال، پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔

ترجمان نے مزید کہا ہے کہ دونوں ممالک کے مفاد اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو اس طرح کے بیانات متاثر کریں گے۔

’پاکستان امید کرتا ہے کہ افغانستان کی حکومت اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات اور الزام تراشیوں کے بارے میں غور کرے گی۔‘

قبل ازیں وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے بیانات سے خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے اور خطے کو امن کی ضرورت ہے اور اس وقت سب کو سیاسی شعور کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

خارجی امور کے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان حکومت کے سنگین الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد تو کیا ہے لیکن بظاہر قدرے محتاط رویہ اپنایا ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے پیر کو کہا تھا کہ افغان شدت پسندوں کے حالیہ حملوں کے پیچھے پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔ ان کے مطابق ان حملوں میں دارالحکومت کابل میں بھارتی سفارتخانے کے باہر ہونے والا خود کش حملہ بھی شامل ہے، جس میں چالیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حامد کرزئی نے یہ بھی کہا تھا کہ ’افغانستان اپنے دشمنوں کو بتانا چاہتا ہے کہ وہ اپنی عزت کی حفاظت کرے گا۔ اب یہ واضح ہو چکا ہے اور ہم نے پاکستان حکومت سے کہا ہے کہ افغانستان میں لوگوں کی ہلاکت، افغانستان میں پُلوں کی تباہی پاکستانی انٹیلیجنس اور پاکستان کے فوجی محکمے کرا رہے ہیں۔‘

اس سے پہلے افغان صدر حامد کرزئی نے دھمکی دی تھی کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے افغان فوج کو بھی پاکستان بھیجا جا سکتا ہے۔

جس کے جواب میں پاکستان نےکہا تھا کہ وہ اپنی علاقائی سالمیت اور اقتدار اعلی کا دفاع کرےگا اور کسی کو بھی سرحدوں کی حلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد