’ایسے بیانات سے کشیدگی بڑھتی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ ان کے ملک میں ہونے والے حملوں میں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں اور فوج کا ہاتھ ہے۔ وزیر اطلاعات شیری رحمین نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ’ایسے بیانات سے خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے۔خطے کو امن کی ضرورت ہے اور اس وقت سب کو سیاسی شعور کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔‘ صدر کرزئی نے پیر کو کہا تھا کہ افغان شدت پسندوں کے حالیہ حملوں کے پیچھے پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں دارالحکومت کابل میں بھارتی سفارتخانے کے باہر ہونے والا خود کش حملہ بھی شامل ہے۔
کابل میں بھارتی سفارتخانے کے باہر ہونے والے اس حملے میں چالیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حامد کرزئی نے کہا کہ افغانستان اپنے دشمنوں کو بتانا چاہتا ہے کہ وہ اپنی عزت کی حفاظت کرے گا۔ ’اب یہ واضح ہو چکا ہے اور ہم نے پاکستان حکومت سے کہا ہے کہ افغانستان میں لوگوں کی ہلاکت، افغانستان میں پُلوں کی تباہی پاکستانی انٹیلیجنس اور پاکستان کے فوجی محکمے کرا رہے ہیں۔‘ اس سے پہلے افغان حکام افغانستان میں ہونے والے حملوں کے حوالے سے پاکستان کی اینٹیلیجنس سروس پر درپردہ الزامات لگاتے رہے ہیں۔ اس سے پہلے افغان صدر حامد کرزئی نے بھارتی سفارتخانے کے باہر خود کش حملے کے بعد دھمکی دی تھی کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے افغان فوج کو بھی پاکستان بھیجا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے جواب میں پاکستان نےکہا تھا کہ وہ اپنی علاقائی سالمیت اور اقتدار اعلی کا دفاع کرےگا اور کسی کو بھی سرحدوں کی حلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ |
اسی بارے میں ’امداد افغان تعمیرِ نو پر خرچ کریں‘06 July, 2008 | آس پاس ’امریکی بمباری، 22 شہری ہلاک‘06 July, 2008 | آس پاس افغانستان: ہلاکتیں، متضاد اطلاعات05 July, 2008 | آس پاس قندھار:چوکی پر حملہ، آٹھ ہلاک04 July, 2008 | آس پاس جون اتحادی افواج کے لیے بھاری رہا02 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||