BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 July, 2008, 11:36 GMT 16:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بغیر ثبوت الزام تراشی صحیح نہیں‘

احمد مختار
یہ سب الزامات ہیں جو ثابت نہیں کیے جا سکتے:احمد مختار
پاکستان کے وزیرِ دفاع احمد مختار کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام کی جانب سے بنا کسی ثبوت کے پاکستان کو کابل میں بھارتی سفارتخانے پر ہونے والے خودکش حملے کا موردِ الزام ٹھہرانا صحیح نہیں تاہم اس الزام تراشی کا اثر پاک بھارت تعلقات پر نہیں پڑے گا۔

یاد رہے کہ سنیچر کو انڈیا کے مشیر برائے قومی سلامتی ایم کے نرائنن نے الزام لگایا تھا کہ کابل میں اس کے سفارت خانے پر حملے میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے دلی میں کہا کہ بھارتی حکومت کے پاس اس سلسلے میں’اچھی خاصی انٹیلیجنس موجود ہے‘۔

اس بارے میں بی بی سی بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیر دفاع نے کہا کہ’میں یہ سمجھتا ہوں جب دو ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات کیے جا رہے ہوں، اس موقع پر بغیر کسی ثبوت کے یہ الزام لگانا غلط ہے‘۔

افغان حکومت کی طرف سے اسی نوعیت کے بیانات کے بارے میں وزیردفاع نے کہا کہ’یہ سب الزامات ہیں جو ثابت نہیں کیے جا سکتے۔ الزام تراشی کرنا تو ہر کسی کے بس میں ہے۔ جو آدمی خود کو کمزور سمجھتا ہے وہی الزامات کا سہارا لیا کرتا ہے جیسا کہ صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں مداخلت کر رہا ہے۔ ہم مداخلت نہیں کر رہے۔ ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن سے رہنا چاہتے ہیں‘۔

بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی مبینہ خلاف ورزی پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ایسا کیوں ہوا اور کہاں سے کس نے سرحدی خلاف ورزی کی اور اس کے بعد ہی کسی پر الزام لگیا جا سکتا ہے۔

 یہ سب الزامات ہیں جو ثابت نہیں کیے جا سکتے۔ الزام تراشی کرنا تو ہر کسی کے بس میں ہے۔ جو آدمی خود کو کمزور سمجھتا ہے وہی الزامات کا سہارا لیا کرتا ہے جیسا کہ صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں مداخلت کر رہا ہے۔ ہم مداخلت نہیں کر رہے۔ ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن سے رہنا چاہتے ہیں‘۔

یاد رہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں واقع بھارتی سفارتخانے پر سات جولائی کو ایک خودکش کار بم حملے میں چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے اور مرنے والوں میں افغانستان میں تعینات بھارتی فوجی اتاشی اور ایک سینئر بھارتی سفارتکار بھی شامل تھے۔

اس دھماکے کے بعد حکومت افغانستان نے بھی آئی ایس آئی کا نام لیے بغیر اشارتاً کہا تھا کہ حملے میں پاکستان کا خفیہ ادارہ ملوث ہوسکتا ہے لیکن پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اس کی تردید کی تھی۔

کابل میں بم دھماکہ
خودکش حملہ آور کا نشانہ بھارتی سفارتخانہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد