زرگیری:’سکیورٹی فورسز کا کنٹرول‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ہنگو میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے طالبان کے ایک اہم گڑھ زرگیری پر قبضہ کے بعد وہاں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے جبکہ فوجی حکام اور طالبان نے آپریشن کے دوران ہلاکتوں کے متضاد دعوے کیے ہیں۔ ادھر دوآبہ اور ہنگو شہر میں بدستور کرفیو نافذ ہے تاہم حالیہ کارروائی کے دوران پہلی بار ہنگو کوہاٹ شاہراہ جزوی طورپر ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے طالبان کے اہم گڑھ زرگیری پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد تمام علاقے کو سیل کر دیا ہے اور فورسز وہاں اپنی پوزیشن مضبوط کر رہی ہیں۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ اب تک کی کارروائیوں میں دس عسکریت پسند مارے گئے ہیں تاہم آزاد ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ ادھر اورکزئی ایجنسی میں مقامی طالبان کے ایک ترجمان مولوی حیدر نے دعوی کیا ہے کہ طالبان عسکریت پسند بدستور زرگیری گاؤں میں موجود ہیں اور ان کے بقول سکیورٹی فورسز کو وہاں سے نکال دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید دعوی کیا کہ گزشتہ رات زرگیری میں سکیورٹی فورسز پر حملے میں تیس اہلکار مارے گئے ہیں تاہم آزاد ذرائع سے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ عینی شاہدین کے مطابق گزشتہ رات شنہ وڑی کے علاقے میں طالبان اور سکیورٹی فورسز کے مابین ایک جھڑپ ہوئی جس میں ہلاکتوں کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات نہیں مل سکی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چند طالبان جنگجوؤں نے شنہ وڑی ہائی سکول میں پناہ لے تھی جس پر سکیورٹی فورسز نے سکول کا محاصرہ کیا اور شدید شیلنگ کی جس سے سکول کی عمارت کوشدید نقصان پہنچا ہے۔ دوآبہ تھانہ کے ایک اہلکار کے مطابق فائرنگ سے سکول کے تین کمرے مہندم ہوگئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات بھی تورہ اوڑی اور قریبی دیہات میں سکیورٹی فورسز نے مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر توپ خانے سے حملے کیے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں اب تک پانچ عام شہری مارے جا چکے ہیں۔ تاہم فوج کے ترجمان کا دعوٰی ہے کہ یہ افراد طالبان کی طرف سے شہری علاقوں میں پر مارٹر گولے داغنے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری جانب ہنگو میں سرکاری و فوجی اہلکاروں کو یرغمال بنانے والے مقامی طالبان نے حکومت سے جمعہ تک آپریشن بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ شدت پسندوں کے ترجمان مولوی حیدر نے ایسا نہ کرنے کی صورت میں یرغمال بنائے جانے والے افراد میں سے روزانہ تین کو ہلاک کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ہنگو میں گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے دوآبہ کے مقام پر کئی طالبان کی گرفتاری کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والوں میں ایک اہم طالبان رہنما رفیع الدین بھی شامل ہیں۔ انہی ساتھیوں کی رہائی کے لیے اور حکومت پر دباؤ بڑھانے کی خاطر ان طالبان نے بقول ان کے پچاس کے قریب فوجی اور سویلین اہلکاروں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ حکومت نے کئی اہلکاروں کے اغوا کی تصدیق کی ہے تاہم ان کی تعداد نہیں بتائی ہے۔ | اسی بارے میں ہنگو میں کارروائی جاری، خاتون ہلاک17 July, 2008 | پاکستان ایف سی کے قلعہ پر طالبان قابض14 July, 2008 | پاکستان ہنگو: طالبان پر فوج کی گولہ باری14 July, 2008 | پاکستان ہنگو میں ایک بٹالین فوج روانہ09 July, 2008 | پاکستان ہنگو میں فائرنگ سے چار ہلاکتیں17 June, 2008 | پاکستان ہنگو: بم حملےمیں ایک ہلاک26 March, 2008 | پاکستان ہنگو میں فرقہ وارانہ تشدد تاریخی پس منظر22 March, 2008 | پاکستان مہاجرین کو یکم مارچ تک مہلت05 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||