BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 July, 2008, 19:59 GMT 00:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایف سی کے قلعہ پر طالبان قابض

عینی شاہدین کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے ایک معاہدے کے تحت طالبان کو اپنے ہتھیار دئے ۔
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ہنگو میں حکام کا کہنا ہے کہ مقامی طالبان نے فرنٹیر کانسٹیبلری کے ایک قلعہ پر قبضہ کرکے وہاں تعینات سکیورٹی اہلکاروں سے اسلحہ چھین لیا ہے۔

حکام کے مطابق قلعے کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی کوشش بھی کی گئی ۔

ہنگو پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کی شام درجنوں مسلح طالبان زرگیری کے قریب واقع شنہ وڑی ایف سی قلعہ میں داخل ہوئے اور وہاں تعینات سکیورٹی اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر چند گھنٹوں تک وہاں موجود رہے۔

قلعے میں ایک درجن سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات تھے جو ایک معاہدے کے تحت اپنا اسلحہ طالبان کے حوالے کرکے وہاں سے چلے گئے
عینی شاہدین

اہلکار کے مطابق مسلح طالبان نے قلعہ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی کوشش کی اور قلعہ کے اندر دھماکے بھی کئے جس سے عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قلعہ میں دس ایف سی اہلکار موجود تھے جن کا تعلق اورکزئی ایجنسی کے علی خیل قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔

تاہم عینی شاہدین کا دعوی ہے کہ قلعے میں ایک درجن سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات تھے جو ایک معاہدے کے تحت اپنا اسلحہ طالبان کے حوالے کرکے وہاں سے چلے گئے۔

مقامی لوگوں کے مطابق طالبان نے قلعے پر قبضہ کرنے سے پہلے علاقے کے عمائدین سے بات چیت کی اور ان کی رضامندی سے عمارت میں داخل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے قلعے میں دھماکوں کے بعد کسی نامعلوم مقام کی طرف چلے گئے۔

ادھر دوسری طرف ہنگو کے مشران اور علماء کرام پر مشتمل ایک جرگہ مقامی طالبان سے مذاکرات کے لیے اورکزئی ایجنسی پہنچ چکا ہے۔ جرگہ کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ جرگہ طالبان سے مذاکرات مکمل کرنے کے بعد عسکریت پسندوں کے مطالبات حکومت کو پیش کریگا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل ہنگو پولیس نے دوابہ کے مقام پر چھ طالبان کو گرفتار کیا تھا جبکہ بعد میں طالبان نے بھی جوابی کاورائی کے طور پر ایک پولیس تھانے کا کئی گھنٹوں تک محاصرے کئے رکھا۔

تاہم مقامی انتظامیہ نے صورتحال سے نمٹنے کےلئے فوج طلب کرلی تھی۔ اس کے علاوہ تین دن قبل زرگیری کے مقام پرایف سی اہلکاروں کے ایک قافلے پر حملے میں چودہ سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد