BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 July, 2008, 09:34 GMT 14:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنگو میں کارروائی جاری، خاتون ہلاک

پاک فوج
طالبان نے حکومت کو جمعہ تک آپریشن بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد کے مغربی ضلع ہنگو میں سکیورٹی فورسز کی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی جمعرات کو دوسرے دن بھی جاری ہے جس میں گن شپ ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

پشاور سے ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے رپورٹ کے مطابق ہنگو میں پولیس کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے عارضی مرکز پر حملے کے دوران ایک گھر پر مارٹر گولہ گرنے سے ایک خاتون ہلاک اور دو زخمی ہوئی ہیں۔

دوسری جانب ہنگو میں سرکاری و فوجی اہلکاروں کو یرغمال بنانے والے مقامی طالبان نے حکومت کو جمعہ تک آپریشن بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ شدت پسندوں کے ترجمان مولوی حیدر نے ایسا نہ کرنے کی صورت میں یرغمال بنائے جانے والے افراد میں سے تین تین کو روزانہ ہلاک کرنے کی دھمکی دی ہے۔

لڑائی کا مرکز زرگری کا علاقہ بتایا جاتا ہے تاہم ابھی تک فریقین کی جانب سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز کی پیش قدمی بدستور جاری ہے۔

اورکزئی اور ہنگو میں سرگرم مقامی شدت پسندوں نے بدھ کے روز کہا تھا کہ انہوں نے مصالحتی جرگے کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ کوئی عسکری کارروائی نہیں کریں گے۔ لیکن انہوں نے الزام عائد کیا کہ سکیورٹی فورسز نے دوپہر کے وقت اچانک پیش قدمی شروع کر دی جس میں انہیں ٹینکوں اور توپوں کی مدد حاصل ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت جنگ کرنا چاہتی ہے تو ان کا بھی اعلان جنگ ہے تاہم انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ جنگ شہری علاقوں میں نہ کرے۔ ہنگو میں گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے دوآبہ کے مقام پر کئی طالبان کی گرفتاری کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والوں میں ایک اہم طالبان رہنما رفیع الدین بھی شامل ہیں۔

انہی ساتھیوں کی رہائی کے لیے اور حکومت پر دباؤ بڑھانے کی خاطر ان طالبان نے بقول ان کے پچاس کے قریب فوجی اور سویلین اہلکاروں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

حکومت نے کئی اہلکاروں کے اغوا کی تصدیق کی ہے تاہم ان کی تعداد نہیں بتائی ہے۔

پشاور سے ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے رپورٹ کے مطابق ہنگو میں پولیس کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے عارضی مرکز پر حملے کے دوران ایک گھر پر مارٹر گولہ گرنے سے ایک خاتون ہلاک اور دو زخمی ہوئی ہیں۔

دوسری طرف ہنگو میں فوج نے مزید پیش قدمی کرتے ہوئے زرگیری گاؤں کے آس پاس علاقوں کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے جبکہ رات بھر توپ بردار ہیلی کاپٹروں اور بھاری توپ خانے سے مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔

تھانہ دوابہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کی رات گولے مقامی طالبان نے داغے ہیں تاہم تاحال کسی تنظیم اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

فوج کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی صبح زرگیری کی طرف فورسز نے پیش قدمی کی ہے اور شام تک وہاں تمام علاقوں کا کنٹرول حاصل کرلیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اور آج صبح گن شپ ہیلی کاپٹر اور توپ خانے کا استعمال کیا گیا ہے اور مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اورکزئی ایجنسی سے جمعیت علماء اسلام کے رہنما سنیٹر میاں محمد حسین کا کہنا ہے کہ زرگیری پر رات کی گولہ باری میں ان کا گھر بھی نشانہ بنا ہے جس سے گھر کے کچھ کمروں کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھر میں کوئی موجود نہیں تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے دوابہ اور ہنگو میں بدستور کرفیو نافذ ہے جبکہ تمام سڑکیں اور بازار بند ہونے کی وجہ سے علاقے میں اشیاء خورد و نوش کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق کرفیو میں گزشتہ ایک ہفتے سےکوئی نرمی نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے سے بدستور نقل مکانی جاری ہے اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔

اسی بارے میں
ہنگو: بم حملےمیں ایک ہلاک
26 March, 2008 | پاکستان
مہاجرین کو یکم مارچ تک مہلت
05 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد