ہنگو میں جرگہ ناکام، کرفیو نافذ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ہنگو میں جرگے کی ناکامی کے بعد سکیورٹی فورسز نے ایک بار پھر مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو بھاری توپ خانے سے نشانہ بنایا ہے جس سے سات عام شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے ہنگو شہر میں بھی کرفیو نافذ کردیا ہے۔ ادھر صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں مقامی طالبان نے سیکورٹی فورسز کی پیش قدمی کو جرگے کے ساتھ ہونے والے اتفاق رائے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شہری علاقوں میں لڑائی سے گریز کرے۔ ہنگو کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کی صبح سکیورٹی فورسز نے زرگیری اور نریاب کے آس پاس واقع علاقوں میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بھاری توپ خانے سے شیلنگ کی جس سے پورے علاقے میں شدید خوف وہراس پھیل گیا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ زرگیری، نریاب اور آس پاس کے دیہات میں چند مارٹر گولے گھروں پر بھی گرے ہیں جس میں ایک خاتون سمیت سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ زرگیری میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ایک مقامی رہنما حسین جلالی نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں زیادہ تر توپ کے گولے بازار اور گاؤں پر گرے ہیں جس میں ان کے مطابق چار افراد زخمی جبکہ مال مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ علاقے کی اکثریتی آبادی پہلے ہی محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کرچکی ہے۔ ان کے مطابق تورہ اوڑی، شنہ وڑی، درسمند، سہ روزئی، جوار غنڈی اور دیگر قریبی علاقوں سے لوگ وسیع پیمانے پر دور دراز علاقوں میں منتقل ہوئے ہیں۔ علاقے میں تمام سڑکیں ، تجارتی مراکز، دفاتر ، تعلیمی ادارے اور بازارگزشتہ سات دنوں سے مکمل طورپر بند ہیں۔ دریں اثناء ضلعی انتظامیہ نے ہنگو شہر میں بھی غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کردیا ہے جبکہ ہنگو ٹل شاہراہ بھی ہر قسم کے آمد و رفت کےلئے بند کردی گئی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق گزشتہ رات سے ہنگو شہر میں شدید خوف و ہراس اور غیر یقینی کی صورتحال ہے جبکہ لوگ گھروں کے اندر محصور ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کےلیے بگٹو کے مقام پر دو مہاجر کیمپ بھی بنائے ہیں تاہم کیپموں میں پردے اور دیگرسہولیات کے فقدان کے باعث نقل مکانی کرنے والے گھرانے وہاں جانے سے گریز کررہے ہیں۔ گزشتہ روز مقامی انتظامیہ نے دوابہ اور آس پاس کے علاقوں میں پمفلٹ تقسیم کئے تھے جس میں لوگوں کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ادھر ہنگو میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان مصالحت کرانے والا سو رکنی جرگہ جنگ بندی کرانے میں ناکام ہوگیا ہے۔ جرگہ کے ایک رکن اور ہنگو سے رکن صوبائی اسمبلی مفتی سید جنان نے بی بی سی کو بتایا کہ جرگہ اراکین نے طالبان سے مذاکرات میں ان سے اختیار لے لیا ہے تاہم حکومت کی طرف سے تاحال جنگ بندی کے لیے جرگہ کو کوئی اختیار نہیں دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جرگہ اراکین کل سے پشاور ہی میں صوبائی انتظامیہ سے صلاح و مشوروں میں مصروف ہیں۔ دریں اثناء صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں مقامی طالبان نے سیکورٹی فورسز کی پیش قدمی کو جرگے کے ساتھ ہونے والے اتفاق رائے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شہری علاقوں میں لڑائی سے گریز کرے۔ اورکزئی اور ہنگو کے مقامی شدت پسندوں کے ترجمان مولوی حیدر نے بی بی سی سی کسی نامعلوم مقام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مصالحتی جرگے کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ کوئی عسکری کارروائی نہیں کریں گے۔ لیکن انہوں نے الزام عائد کیا کہ سکیورٹی فورسز نے بارہ بجے دوپہر پیش قدمی شروع کر دی ہے۔ ’ان کا کہنا تھا کہ فوج ٹینکوں اور توپوں کی مدد سے پیش قدمی کر رہی ہے‘۔ مقامی طالبان نے دعوٰی کیا کہ انہوں نے نیم فوجی ملیشیا کے شینہ وڑی قلعے پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے تاہم اب تک کی لڑائی میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت جنگ کرنا چاہتی ہے تو ان کا بھی اعلان جنگ ہے تاہم انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ جنگ شہری علاقوں کی بجائے کھلے میدان میں کرے۔ ان کے مطابق لڑائی نریاب کے علاقے میں جاری ہے۔ |
اسی بارے میں ہنگو: طالبان پر فوج کی گولہ باری14 July, 2008 | پاکستان ایف سی کے قلعہ پر طالبان قابض14 July, 2008 | پاکستان ہنگو: 17 سکیورٹی اہلکار ہلاک12 July, 2008 | پاکستان ہنگو : تھانے کا محاصرہ ختم10 July, 2008 | پاکستان ہنگو: جرائم کی شرح میں اضافہ 09 July, 2008 | پاکستان ہنگو میں فائرنگ سے چار ہلاکتیں17 June, 2008 | پاکستان ہنگو: جھڑپوں کے بعد فائربندی22 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||