ہنگو: طالبان پر فوج کی گولہ باری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ہنگو میں سکیورٹی فورسز نے پہلی مرتبہ مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کی ہے۔ تاہم حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ فوجی حکام کے مطابق اتوار کی رات سکیورٹی فورسز نے زرگیری کے علاقے میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے کئی ٹھکانوں کو بھاری توپ خانے سے نشانہ بنایا جس میں تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دوآبہ شہر میں تعینات سکیورٹی فورسز نے ساری رات زرگیری کے پہاڑی مقامات پر توپ خانے کا استعمال کیا اور یہ سلسلہ صبح چار بجے تک جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ اس گولہ باری سے علاقے میں سخت خوف وہراس پھیل گیا ہے۔ زرگیری کے ایک رہائشی مولوی حسین اصغر نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے سے تقریباً اسی فیصد لوگ پہلے ہی محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کرچکے ہیں جبکہ آس پاس واقع دیہات سے بھی مقامی لوگ گھر بار چھوڑ کر خواتین اور بچوں سمیت علاقے سے نکل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد زرگیری گاؤں میں تمام بازار، تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے بند ہیں جبکہ زیادہ تر لوگ ہنگو اور ٹل کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ سنیچر کو مقامی طالبان نے زرگیری کے مقام پر ایف سی اہلکاروں کے ایک قافلے پر حملہ کیا تھا جس میں پندرہ سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔ یہ اہلکار مقامی مشران پر مشتمل ایک جرگہ کے ہمراہ قریبی ایف سی قلعہ جا رہے تھے۔ دوسری طرف دوآبہ شہر میں پیر کو پانچویں روز بھی کرفیو نافذ رہا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شہر میں تمام بازار اور سڑکیں بدستور بند ہیں جبکہ لوگ آمد و رفت کےلیے کچے اور پہاڑی راستے استعمال کررہے ہیں۔ ادھر ہنگو سے عوامی نشینل پارٹی کے رکن قومی اسمبلی پیر حیدر علی شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سنیچر کو ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعہ پر ہنگو کے لوگوں کے ساتھ ساتھ مقامی طالبان نے بھی رنجیدگی کا اظہار کیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ ’ ہنگو میں سب کچھ ٹھیک طریقے سے جارہا تھا، مقامی طالبان سے بات چیت میں کافی حد تک پیش رفت بھی ہوچکی تھی لیکن بدقسمتی سے اس دوران سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا جس نے ہماری تمام محنت پر پانی پھیر دیا۔‘ انہوں نے الزام لگایا کہ اس واقعہ میں ضرور غیر ملکی ہاتھ ملوث ہوسکتا ہے اس لیے حکومت کو فوری طورپر اس کی تحقیقات کرنی چاہیے تاکہ اس میں ملوث افراد بے نقاب کیا جا سکے۔ پیر حیدر علی شاہ نے بتایا کہ ہنگو کے مقامی طالبان نے ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری نہ تو قبول کی ہے اور نہ ہی انہوں نے یہ کام کیا ہے بلکہ یہ کام کسی اور گروہ کا ہوسکتا ہے جس سے اب حالات سارے علاقے میں کشیدہ ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے مسئلے کے پرامن حل کےلیے اورکزئی اور ہنگو کے مشران پر مشتمل دو الگ الگ جرگے تشکیل دیئے ہیں جس نے فریقین سے بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔ ہنگو میں حالیہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب چند روز پہلے دو آبہ میں سکیورٹی فورسز نے سات طالبان جنگجوؤں کو گرفتار کیا تھا جبکہ طالبان نے بھی جوابی کارروائی کے طورپر ایک پولیس سٹیشن کا کئی گھنٹوں تک محاصرہ کئے رکھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک بٹالین فوج بھی طلب کر لی تھی۔ | اسی بارے میں سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ ’نو گو ایریا‘ میں ہوا13 July, 2008 | پاکستان ہنگو: 17 سکیورٹی اہلکار ہلاک12 July, 2008 | پاکستان ہنگو : تھانے کا محاصرہ ختم10 July, 2008 | پاکستان ہنگو: جرائم کی شرح میں اضافہ 09 July, 2008 | پاکستان ہنگو میں فائرنگ سے چار ہلاکتیں17 June, 2008 | پاکستان ہنگو: جھڑپوں کے بعد فائربندی22 March, 2008 | پاکستان ہنگو میں کرفیو، فائرنگ سے2ہلاک21 January, 2008 | پاکستان ہنگو: کرفیو کے باوجود فائرنگ20 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||