BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 September, 2008, 10:01 GMT 15:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان:کہیں جنگ بندی کہیں لڑائی

سوات سکیورٹی فورسز فائل فوٹو
ضلع سوات میں مقامی عسکریت پسندوں نے کسی ایسی جنگ بندی کو مسترد کر دیا تھا
حکومت پاکستان کے حکم پر سکیورٹی فورسز نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جنگ بندی پر عمل درآمد آج سے شروع کر دیا ہے۔ تاہم درہ آدم خیل سے اطلاعات ہیں کہ وہاں کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔

قبائلی علاقوں کے مقامی طالبان نے رمضان کی آمد پر اس جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے تاہم صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں مقامی عسکریت پسندوں نے کسی ایسی جنگ بندی کو مسترد کر دیا تھا۔

مشیر داخلہ رحمان ملک نے گزشتہ دنوں لاہور میں رمضان کو وجہ بتا کر باجوڑ میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ جنگ سے متاثرہ افراد کی گھروں کو واپسی کو یقینی بنانا ہے۔

سرکاری اعداوشمار کے مطابق پانچ لاکھ افراد نے نقل مکانی کی جن میں سے تین لاکھ کا اندراج ہوسکا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ پناہ گزینوں کی اکثریت نے عارضی طور پر واپسی سے انکار کیا ہے۔ یہ پناہ گزین مختلف شہروں میں عارضی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

درہ آدم خیل سے آج بھی اطلاعات ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے چوتھے روز بھی اپنی کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔ درہ کے لوگوں نے حکومت سے رمضان کے پیش نظر لڑائی روکنے کی اپیل کی ہے۔

 قبائلی علاقے کرم سے بھی فریقین کے درمیان لڑائی جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ حکومت نے اب تک طوری اور بنگش قبائل کے درمیان اس لڑائی کو روکنے کے لیے طاقت کے استعمال سے گریز کیا ہے

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے کارروائیاں بند کر دی ہیں تاہم مقامی قبائل نے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا ہے جس میں مشتبہ افراد کے مکانات جلائے جا رہے ہیں۔

باجوڑ میں مقامی طالبان پہلے ہی جنگ بندی کا اعلان کر چکے تھے۔ تاہم وزیرستان میں میزائل حملوں اور درہ آدم خیل اور سوات میں جاری کارروائیوں کی وجہ سے مبصرین کے خیال میں یہ جنگ بندی کچھ زیادہ نہ چل پائے گی اور صدارتی انتخابات کے بعد لڑائی دوبارہ چھڑ سکتی ہے۔

حکومت پہلے ہی واضع کر چکی ہے کہ جنگ بندی کے دوران شدت پسندوں کی جانب سے ایک گولی کا جواب وہ دس گولیوں سے دیں گے۔

سوات میں شدت پسندوں کے ترجمان مسلم خان نے حکومتی جنگ بندی کی پیشکش مسترد کر دی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر ماہ مقدس ہے لہذا ایسی کسی جنگ بندی کا جواز نہیں بنتا۔

قبائلی علاقے کرم سے بھی فریقین کے درمیان لڑائی جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ حکومت نے اب تک طوری اور بنگش قبائل کے درمیان اس لڑائی کو روکنے کے لیے طاقت کے استعمال سے گریز کیا ہے۔

اسی بارے میں
باجوڑ میں فوجی چوکی خالی
28 July, 2008 | پاکستان
خار کا محاصرہ، متضاد دعوے
10 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد