باجوڑ بمباری، طالبان مرکز نذرآتش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر تازہ حملوں میں حکام نے سینتیس 37 عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم مقامی ذرائع نے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چار بتائی ہے جن میں عام شہری بھی شامل ہیں۔ دوسری طرف دو قبائلی سرداروں کی ہلاکت کے ردعمل میں مقامی قبائل نے طالبان کے ایک مرکز کو نذرآتش کیا ہے جس سے علاقے میں حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں۔ پاکستان فوج کے ایک ترجمان میجر مراد نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کی صبح توپ بردار ہیلی کاپٹروں نے مشتبہ عسکریت پسندوں کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں متعدد شدت پسند مارے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوٹکی اور پشت کے علاقے میں بنیادی صحت کے ایک مرکز میں جمع ہونے والے درجنوں شرپسندوں پرگن شپ ہیلی کاپٹروں سے حملہ کیا گیا جس میں ان کے مطابق بیس سے تیس عسکریت پسند مارے گئے۔ ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں غیر ملکی جنگجو بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواگئی کے علاقے میں بھی طالبان کے ایک ٹھکانے پر حملے میں سات شرپسند مارے گئے ہیں۔ تاہم آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ بمباری میں چار افراد ہلاک ہوئے جن میں عام شہری بھی شامل ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کارروائی میں توپ بردار ہیلی کاپٹروں کے علاوہ جیٹ طیاروں کو بھی استعمال کیا گیا جس سے کئی عام شہریوں کے گھر بھی نشانہ بنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں کے مقابلے آج کی بمباری انتہائی شدید تھی۔ تاہم مقامی طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی سے گفتگو میں قبائلی سرداروں کی ہلاکت سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہلاک ہونے والے افراد قوم کے مشران تھے جبکہ وہ قوم سے لڑنا نہیں چاہتے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ان کے ساتھی کی ہلاکت میں ملوث افراد سے بدلہ ضرور لیا جائے گا۔ مقامی طالبان نے باجوڑ میں فوجی کارروائی میں ہلاکتوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے فوج کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ طالبان ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ بدھ کی صبح ہونے والی کارروائی میں ان کا ایک بھی ساتھی ہلاک اور نہ زخمی ہوا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اس قسم کے دعوے کرکے علاقے میں خوف وہراس اور مزید حالات خراب کرنا چاہتی ہے تاکہ لوگ علاقہ خالی کردے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز ان کو ایک طالب کی لاش بھی دکھا دے تو وہ باقی ماندہ ہلاکتوں کے حکومتی دعوے کو تسلیم کرلینگے۔ ادھر پیر کو سلارزئی تحصیل میں دو قبائلی سرداروں کی نامعلوم افراد کے ہاتھوں ہلاکت کے ردعمل میں مقامی قبائل نے طالبان کے ایک مرکز پر حملہ کرکے اسے آگ لگا دی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مرکز پر حملے کے بعدعلاقے میں حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلارزئی تحصیل میں مقامی قبائل مسلح ہوکر مختلف مقامات پر بھاری ہتھیاروں سے مورچہ زن ہیں۔ واضح رہے کہ دو دن قبل سلارزئی تحصیل میں مقامی طالبان کے خلاف جرگوں میں شرکت کرنے والے دو قبائلی مشران ملک زرین اور ملک بختاور کو نامعلوم مسلح افراد نے ایک راکٹ حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔ بعد میں مقتولین کی نماز جنازہ کے موقع پر قبائل نے مشتعل ہوکر سڑک پر جانے والے ایک طالب جنگجو کو گاڑی سے اتار کر ہلاک کیا تھا۔ | اسی بارے میں باجوڑ: طالبان جنگجوؤں کاگشت11 March, 2008 | پاکستان باجوڑ میں فوجی چوکی خالی28 July, 2008 | پاکستان خار کا محاصرہ، متضاد دعوے10 August, 2008 | پاکستان ’باجوڑ میں بمباری، سات ہلاک‘11 August, 2008 | پاکستان خاراور لوئی سم پر طالبان کا قبضہ ختم12 August, 2008 | پاکستان ’آپریشن غیر ملکی عناصر کے خلاف‘15 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||