BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 August, 2008, 09:13 GMT 14:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’باجوڑ میں بمباری، سات ہلاک‘

باجوڑ
طالبان کے ٹھکانوں کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اطلاعات کے مطابق گن شپ ہیلی کاپٹروں اور جیٹ طیاروں کی بمباری اور مارٹر گولے گرنے سے سات افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔

پیر کو تازہ واقعات میں سکیورٹی فورسز نے مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں کو جیٹ طیاروں اور بھاری توپ خانے سے نشانہ بنایا اور باجوڑ کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جیٹ طیاروں نے صدر مقام خار کے قریب واقع علاقے توحید آباد میں عام گھروں کو نشانہ بنایا جس سے دو خواتین سمیت تین افراد ہلاک جبکہ ایک شدید زخمی ہوگیا۔

ایک عینی شاہد فدا محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ بمباری سے ایک مسجد کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ کئی گھر بھی تباہ ہوگئے ہیں۔ مقامی صحافیوں کے مطابق پہاڑی علاقہ ڈمہ ڈولہ میں بھی اتوار کی رات مارٹر گولے گھروں پر گرنے کے واقعات میں چار افراد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوگئے ہیں۔

عینی شاہدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پیر کی صبح جیٹ طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں نے صدر مقام خار کے اردگرد تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جبکہ اتوار کی رات بھی تورغنڈی اور سکندرو کے علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان شدید لڑائی ہوئی جس میں دس عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ تاہم طالبان نے اس لڑائی میں ایک جنگجو کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ رات سکیورٹی فورسز نے صدیق آباد پھاٹک سے لوئے سم تک چھ کلومیٹر کے فاصلے پر مختلف علاقوں میں قابض طالبان کے ٹھکانوں کو بھاری توپ خانے اور دیگر خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ فائرنگ کا سلسلہ رات بھر جاری رہا جس سے صدر مقام خار کے آس پاس رہنے والے لوگوں میں سخت خوف وہراس پھیل گیا ہے۔

لوگ اپنےگھر بار چھوڑ کر باجوڑ ایجنسی سے باہر منتقل ہو رہے ہیں

ان کے مطابق رات کے فائرنگ کے بعد پیر کی صبح سے خار سے لوگوں نے وسیع پیمانے پر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کردی ہے۔ مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف نکلنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ علاقے میں تمام بازار، تجارتی مراکز اور سرکاری دفاتر پچھلےکئی دنوں سے مکمل طورپر بند ہیں، علاقے میں کھانے پینے کی اشیاء کی بھی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

ایک صحافی کے مطابق خار میں گاڑیاں نہ ہونے کی وجہ سے لوگ بے سروسامانی کی عالم میں گھر بار چھوڑ کر پیدل باجوڑ ایجنسی سے باہر منتقل ہو رہے ہیں جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ایک قیامت کا سماں ہے، ایک طرف توپ بردار ہیلی کاپٹر اور جیٹ طیارے بمباری کررہے ہیں تو دوسری طرف سکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجو ہاتھوں میں بھاری ہتھیار لیے سڑکوں پر کھڑے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق باجوڑ سے ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے دیر اور پشاور کی طرف نقل مکانی کی ہے‘۔

دریں اثناء مقامی طالبان نے دعوٰی کیا ہے کہ عنایت کلی کے قریب واقع ایک سرکاری چیک پوسٹ پر تعینات سکیورٹی فورسز کو معاہدے کے تحت محفوظ راستہ دیکر وہاں سے رخصت کر دیا گیا ہے۔ طالبان ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان اور مقامی مشران کے جرگہ کے فیصلے کے مطابق عمری چیک پوسٹ پر تعینات سو سے زائد سکیورٹی اہلکاروں نے ایک معاہدے کے تحت علاقہ خالی کر کے خار سِول کالونی کی طرف چلے گئے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل باجوڑ ایجنسی میں طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں اس وقت شروع ہوئی جب سکیورٹی فورسز کے دو سو اہلکاروں نے لوئی سم کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی۔بعدازاں دو دنوں تک فریقین کی طرف سے لوئی سم پر قبضے کے لیے شدید لڑائی جاری رہی اور اطلاعات کے مطابق بالاخر سکیورٹی فورسز کو پسپا ہونا پڑا اور اب عسکریت پسند لوئی سم پر قابض ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں
سوات: تین مزید سکول نذرآتش
05 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد