BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ 150 اہلکار ’گھیرےمیں‘

چند دنوں سے باجوڑ ایجنسی میں طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مقامی طالبان کے ساتھ برسرِ پیکار سکیورٹی فورسز کے ایک سو پچاس کے قریب اہلکار گزشتہ تین روز سے طالبان کے محاصرے میں ہیں۔ لیکن فوج کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ سکیورٹی اہلکار محاصرے میں نہیں لڑائی میں مصروف ہیں۔

دوسری طرف سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپیں جمعہ کو تیسرے روز بھی جاری ہیں اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ درجنوں افراد کی لاشیں لوئی سم کے بازار میں پڑی ہیں۔

باجوڑ میں ایک اعلی حکومتی اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ تین دن قبل صدر مقام خار سے تقریباً بارہ کلومیٹر دور لوئی سم کے علاقے کی جانب جن دو سو کے قریب اہلکاروں نے پیش قدمی کی تھی ان میں سے ایک سو پچاس کے قریب اہلکار طالبان کے محاصرے میں ہیں۔

ان کے مطابق’ایک سو پچاس کے قریب اہلکاروں کو مسلح طالبان نے چاروں طرف سے محاصرے میں لے لیا ہے اور انہوں نے گزشتہ تین روز سے کھانا نہیں کھایا ہے اور نہ ہی انہیں پانی دستیاب ہے۔ یہ اہلکار مزاحمت کے طور پر ایک آدھ فائر بھی کر لیتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ تین دنوں کی جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز کے کئی اہلکار مارے بھی گئے ہیں جنکی لاشیں وہاں پڑی ہیں اور انہیں اٹھانے کا کوئی موقع نہیں مل رہا۔ان کے بقول مارے جانے والے اہلکاروں کی حتمی تعداد معلوم نہیں ہوسکی ہے البتہ ہمارے اندازے کے مطابق تیس کے قریب اہلکار ہلاک ہوئے ہونگے۔‘

لڑائی میں محصور لوگ
 لوئی سم کے باشندوں نے بی بی سی کو فون کرکے حکومت اور طالبان سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ بند کردیں تاکہ گھروں میں محصور شہری محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ لوئی سم کا بازار بند ہے اور آمدورفت کے تمام راستوں کی بندش اور شدید دو طرفہ فائرنگ کی وجہ سے وہ کہیں نہیں جاسکتے۔
لیکن پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ایک ترجمان میجر مراد نے بی بی سی کو بتایا کہ لوئی سم کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار طالبان کے محاصرے میں نہیں بلکہ وہ جوابی کارروائی میں مصروف ہیں۔ جبکہ بعض مقامی صحافیوں کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اہلکار طالبان کے محاصرے میں ہیں۔

ترجمان میجر مراد نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ گزشتہ تین دنوں کی کارروائی میں سکیورٹی فورسز کے سات اہلکار ہلاک جبکہ تیس طالبان ہلاک ہوئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق طالبان کے خلاف کارروائی جاری ہے اور ان کے مشتبہ ٹھکانوں کو توپخانے اور گن شپ ہیلی کاپٹروں سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔

دوسری طرف طالبان نے جن چھبیس اہلکاروں کو یرغمال بنائے جانےکا دعویٰ کیا ہے ان میں سے باجوڑ اسکاؤٹس سے تعلق رکھنے والے صوبیدار غو ث الدین کی بی بی سی سے فون پر بات کرائی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جمعرات کی شام حکومت نے لوئی سم میں محصور اہلکاروں کو کمک پہنچانے کے لیے ان کی سربراہی میں بیس اہلکاروں کو بھیجا مگر راستے ہی میں ان پر طالبان نے حملہ کردیا۔

ان کے بقول حملے میں ان کا ایک ساتھی موقع پر ہلاک جبکہ چار لاپتہ ہوگئے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ پندرہ اہلکاروں نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور وہ اس وقت طالبان کی تحویل میں ہیں۔

مقامی لوگوں کا بھی کہنا ہے کہ لوئی سم کے علاقے میں مرنے والے افراد کی لاشیں پڑی ہیں۔ان کے بقول گزشتہ رات کی خاموشی کے بعد جمعہ کی صبح سکیورٹی فورسز لوئی سم اور آس پاس کے علاقوں کو بارہ کلومیٹر دور صدر مقام خار کے اسکاؤٹس قلعہ سے توپخانے اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنا رہے ہیں۔

طالبان ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو فون کرکے بتایا کہ ان کے ساتھیوں نے گھات لگا کر جمعہ کی رات صادق آباد اور لوئی سم کے علاقے کے درمیان ایک فوجی قافلے پر راکٹوں اور ہلکے ہتھیاروں سے حملہ کیا جس میں ان کے دعویٰ کے مطابق چالیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے خود جاکر لاشوں اور تباہ شدہ گاڑیوں کو دیکھا ہے اور طالبان نے اپنے موبائل سے جائے وقوعہ کی ویڈیو فلم بھی بنائی ہے۔انہوں یہ دعویٰ بھی کیا کہ تین دنوں کی جھڑپوں کے دوران پینسٹھ کے قریب اہلکاروں کو ہلاک جبکہ چھبیس کو یر غمال بنایا گیا ہے۔

مولوی عمر نے کہا کہ ان کے چار ساتھی مارے گئے ہیں جبکہ لوئی سم کے بازار میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے علاوہ ان کے کئی ساتھیوں کی لاشیں بھی پڑی ہیں جس سے جھڑپوں کی وجہ سے اٹھائے جانے کا موقع نہیں مل رہا۔

جمعرات کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے اہلکار میجر مراد نے طالبان کے ان دعووں کی تردید کی تھی کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ اب تک صرف پانچ اہلکار جبکہ پچیس طالبان ہلاک ہوئے ہیں۔

لوئی سم کے بازار میں سکیورٹی فورسز اور طالبان کی پڑی ہوئی لاشوں اور محصور اہلکاروں کو محفوظ راستے دینے کے حوالے سے جمعرات کوایک قبائلی جرگے نے فریقین کے ساتھ کئی بار ملاقاتیں کیں مگر کامیاب نہیں ہوسکے تھے۔

لوئی سم کے باشندوں نے بی بی سی کو فون کرکے حکومت اور طالبان سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ بند کردیں تاکہ گھروں میں محصور شہری محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ لوئی سم کا بازار بند ہے اور آمدورفت کے تمام راستوں کی بندش اور شدید دو طرفہ فائرنگ کی وجہ سے وہ کہیں نہیں جاسکتے۔

دریں اثناء باجوڑ ہی میں اطلاعات کے مطابق تین افراد کی لاشیں ملی ہیں جن میں سے دو کو گلا کاٹ کر جبکہ تیسرے کو گولی مار کر قتل کردیا گیا ہے۔ ان افراد کو مبینہ طورپر جاسوسی کرنے کے الزام میں مارا گیا ہے۔ اس سلسلے میں جب مولوی عمر سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں سرِ دست کچھ نہیں کہہ سکتے۔

طالبان کا ’قبضہ‘
باجوڑ میں ڈسپنسری، سکول پر طالبان ’قابض‘
فائل فوٹومہمند و باجوڑ
شہریوں کی ہلاکتیں کیا رنگ لائیں گی
امریکی حکمت عملی
امریکی توجہ افغانستان سے پاکستان پر
طالبانپنجاب میں طالبان؟
طالبان کے کوٹ ادو میں دھمکی آمیز خطوط
’امریکی الزام تراشی‘
موقع اور مناسبت کچھ اور معنی بیان کرتے ہیں
طالبائزیشن کے خلاف مہم کا آغازطالبان سےہوشیار
کراچی میں طالبانئزیشن کے خلاف مہم شروع
وزیرستان صورتحال
علاقے میں غیرملکیوں کی موجودگی حقیقت ہے۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد