پاک: امریکی تنقید کا نشانہ کیوں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی حکومت خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی وجہ سے آج کل امریکی حکام اور ذرائع ابلاغ کا مسلسل ہدف بنی ہوئی ہے۔ یہ نہ پہلی مرتبہ ہے اور نہ شاید آخری ہو لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس تمام الزام تراشی کی اس موقع پر وجوہات کیا ہیں۔ امریکی میڈیا کی جانب سے خاص طور پر اس اٹھنے والے طوفان کی ایک وجہ تو خود پیپلز پارٹی حکومت ہے۔ نہ وہ جلدی میں اچانک امریکہ کے سفر پر نکلنے سے قبل آئی ایس آئی سے شرارت کرتی اور نہ یہ الزامات کا طوفان اٹھ کھڑا ہوتا۔ اگرچہ ایک منتخب حکومت ہوتے ہوئے یہ اس کا استحقاق ہے کہ وہ جو کرنا چاہے کرسکتی ہے لیکن اس انتہائی حساس اقدام سے قبل تھوڑی سوچ بچار، فوجی قیادت سے مشورہ اور بہت سی منصوبہ بندی شاید اسے اس ندامت سے بچا لیتی جو اسے حکم نامے کے جاری ہونے کے چند گھنٹوں بعد اٹھانی پڑی۔ سونے پر سہاگا کہ کئی وفاقی وزراء کی جانب سے اپنی سوچ اور بساط کے مطابق بیانات متنازعہ ثابت ہوئے۔ وفاقی وزیر دفاع احمد مختار نے امریکی صدر سے ملنے والی جھاڑ کا اعتراف کیا تو شیری رحمان نے اس ادارے میں طالبان نظریات سے ہم آہنگی رکھنے والے عناصر کی موجودگی کا اعتراف کیا۔ بعد میں تردیدیں بھی سامنے آئیں لیکن جو تیر چلنا تھا چل گیا۔ لیکن امریکہ یہ سب کچھ اس وقت کیوں کر رہا ہے؟ کسی اہلکار کے نام کے بغیر خبریں چلوانا بظاہر امریکی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ہتھیار ثابت ہوا ہے۔ عراق پر حملے سے قبل بھی اسی طرح کی خبریں صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے کی تباہی کے ہتھیاروں کی موجودگی کے الزامات عائد کرتے رہے تھے لیکن بعد میں وہاں سے ملا کچھ نہیں۔ کیا یہی پالیسی اب پاکستان کے خلاف بھی اپنائی جا رہی ہے؟ ویسے بھی آئی ایس آئی کا راگ الاپنے سے قبل امریکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف براہ راست کارروائی کی دھمکیاں دے رہا تھا۔ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے امریکہ اور پاکستان کی فوجی قیادت کے درمیان کم از کم عوامی سطح پر اعتماد کی کمی واضح ہے۔ امریکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی فوجی کی جانی قربانیوں کے باوجود یہ فیصلہ نہیں کرسکا ہے کہ اسے اپنا اتحادی یا حریف قرار دے۔ جب صدر مشرف اقتدار میں تھے تو جب بھی ایسا دباؤ بڑھتا تھا تو اسے بظاہر کم کرنے کے لیئے ایک آدھ القاعدہ کا بڑا رہنما یا تو مارا جاتا یا پھر پکڑا جاتا۔ اب بھی دباؤ بڑھا ہے تو ڈاکٹر ایمن الظواہری کی ہلاکت کی افواہ پھر گرم ہوئی ہے۔ یہ درست ہے یا پھر محض دباؤ کم کرنے کی ترکیب ہے ابھی واضح نہیں۔ دوسرا، امریکہ کو شک ہے کہ افغانستان میں اس کے مکمل کنٹرول کا واحد مخالف پاکستان ہے۔ طالبان یا مولوی جلال الدین حقانی کو اس تمام سکیم میں پاکستان کے ایک آلۂ کار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو خدشہ ہے کہ افغانستان کے بعد نمبر پاکستان کا ہوگا۔ اگر ایسا ہے تو امریکی موجودگی کا سب سے زیادہ خطرہ ایران کو ہونا چاہیے لیکن وہ تو کسی طالبان کی مدد نہیں کر رہا۔ چاہے اس خطے کے قدرتی وسائل ہوں یا پھر محض اپنی موجودگی کو یقینی بنانا امریکہ کے آنے سے افغانستان کے دیگر ہمسایہ ممالک کو بھی پریشانی یقینی ہے۔ ایسا ہے یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے لیکن اس تاثر کا افغانستان میں پاکستان کو بہت برا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ہر افغان یہاں تک کہ وہ جو پاکستان میں کئی دہائیوں تک پناہ گزین کے طور پر مہمان نوازی کا فائدہ اٹھاتے رہے وہ بھی متنفر ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب بھارت کا اثر یقینا بڑھا ہے لیکن اس کی وجہ اس کی وہ سینکڑوں ٹاٹا بسیں ہیں جو آج بھی عام افغان کو آمد و رفت میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اپنی مدت صدارت کے آخری چند ماہ میں ہیں۔ ایسی خبریں پہلے ہی آچکی ہیں کہ نومبر کے صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لئے امریکہ کوئی بڑی کارروائی کرے۔ وہ القاعدہ کے کسی بڑے رہنما کو پکڑنے میں کامیاب رہے یا پھر قبائلی علاقوں میں مزید بڑی کارروائیاں کرے، اس سے قبل وہ شاید آئی ایس آئی سے کچھ نکلوانے کی کوشش میں مصروف ہے، اسے آنکھیں دکھا رہا ہے۔ |
اسی بارے میں بھارتی سفارتخانے پر حملہ، 40 ہلاک07 July, 2008 | آس پاس سفارتخانے پر حملہ بزدلانہ: انڈیا07 July, 2008 | انڈیا کابل: بھارتی خارجہ سیکریٹری کا دورہ13 July, 2008 | انڈیا ’امن کا عمل دباؤ کا شکار‘ 21 July, 2008 | انڈیا جھڑپوں کی تحقیقات کی تجویز29 July, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||