فائر بندی کی خلاف ورزی۔ ٹائم لائن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کنٹرول لائن یعنی ایل او سو پر ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان برسوں جاری رہنے والی گولہ باری کے بعد چھبیس نومبر دو ہزار تین کو فائر بندی کی گئی تھی۔ لائن آف کنڑول پر فائر بندی کو چار سال آٹھ ماہ ہوگئے ہیں لیکن اس دوران اب تک دونوں ملکوں نے ایک دوسری پر کوئی ایک درجن مرتبہ اعلانیہ طور پر لائن آف کنڑول پر فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ دونوں فوجوں کے جانب سے ہونے والی اس گولہ باری کی ٹائم لائن پر ایک نظر: تیس جولائی دو ہزار آٹھ ہندوستانی فوج نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کی فوج نے لائن آف کنڑول کے دوسری جانب سے ان پر فائرنگ کی لیکن ہندوستانی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے جوابی کارروائی نہیں کی۔ پاکستان کی فوج نے ہندوستانی فوج کے الزامات کی تردید کی۔ اٹھائیس جولائی دو ہزار آٹھ لائن آف کنڑول پر نومبر سن دو ہزار تین میں فائر بندی کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان شدید ترین جھڑپ ہوئی۔ ہندوستانی فوجی حکام نے کہا کہ پاکستانی فوجیوں نے فائرنگ کرکے ایک ہندوستانی فوجی کو ہلاک کیا۔ انہوں نے چار پاکستانی فوجیوں کو بھی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔ پاکستان کی فوج نے ہندوستانی الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی فوج نے لائن آف کنڑول عبور کی تھی اور وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے میں چوکی قائم کرنا چاہتے تھے۔ پاکستان کی فوج نے کہا ان کا کوئی فوجی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ چبھیس جولائی دو ہزار آٹھ دونوں ملکوں کی فوجوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع راولاکوٹ میں بٹل کے علاقے میں لائن آف کنڑول پر ایک دوسرے کی فوجی چوکیوں پر بغیر کسی اشتعال کے فائرنگ کرنے کا الزام عائد کیا۔ تاہم دونوں طرف سے کہا گیا اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بھارتی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی فوج نے عسکریت پسندوں کو ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں داخل کرنے کے لیے مشین گنز سے فائرنگ کی جبکہ پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی فوج نے بغیر کسی اشتعال کے ان کی ایک چوکی کو مارٹر اور مشین گنز سے نشانہ بنایا۔ دس جولائی دو ہزار آٹھ دونوں ملکوں کی فوجوں نے جنوبی ضلع راولاکوٹ میں بٹل کے علاقے میں لائن آف کنڑول پر ایک دوسرے کی چوکیوں پر فائرنگ کرنے کا الزام عائد کیا لیکن دونوں طرف سے کہا گیا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انیس جون دو ہزار آٹھ پاکستان کی فوج نے کہا کہ جنوبی ضلع راولاکوٹ میں بٹل کے علاقے میں ان کے چار فوجی ہلاک ہوگئے لیکن پاکستان کی فوج نے اس کا الزام ہندوستانی فوج پر نہیں بلکہ نامعلوم حملہ آوروں پر عائد کیا اور انہیں شر پسند قرار دیا۔ انیس مئی دو ہزار آٹھ ہندوستان کی فوج نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کی فوج نے پونچھ کے علاقے میں مینڈھر سیکڑ میں ان کی ایک اگلی چوکی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ان کا ایک فوجی ہلاک ہوگیا۔ لیکن پاکستان کی فوج نے اس کی تردید کی۔ چودہ مئی دو ہزار آٹھ بھارتی فوج نے الزام عائد کیا کہ پاکستان فوج نے کپواڑہ کے علاقے ٹنگڈار سیکٹر میں ان کے فوجیوں پر ہلکے ہھتیاروں سے فائرنگ کی لیکن اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پاکستان کی فوج نے اس کی تردید کی۔ پچیس اگست دو ہزار چھ- پاکستان کی فوج نے الزام عائد کیا کہ ہندوستانی فوج نے بغیر کسی اشتعال کے جنوبی ضلع کوٹلی کے سرحدی گاؤں بالاکوٹ میں فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک خاتون زخمی ہوگئیں۔
پندرہ اگست دو ہزار چھ پاکستان ی فوج نے الزام عائد کیا کہ ہندوستان کی فوج نے لائن آف کنڑول کی دوسری جانب سے بانڈی عباس پور کے علاقے میں بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو شہری زخمی ہوگئے۔ انیس جولائی دو ہزار پانچ پاکستان کی فوج نے کہا کہ ہندوستان فوجیوں نے کولا سیکڑ میں لائن آف کنڑول عبور کی اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ایک گاؤں کنڈی سے ایک شخص کو اغوا کر لیا۔ پاکستان فوج کے ترجمان نے کہا کہ ہندوستان فوجیوں نے لائن آف کنڑول کی خلاف ورزی کی اور بلا اشتعال فائرنگ بھی کی۔ ہندوستان نے اس کی تردید کی۔ اکیس جنوری دو ہزار پانچ ہندوستان کی فوج نے کہا کہ لائن آف کنڑول کے دوسری جانب سے ان پر راجوری سیکڑ میں مارٹر اور مشین گنز سے فائرنگ کی گئی۔ ہندوستانی فوج نے الزام عائد کیا کہ عسکریت پسندوں کے پاس بھی یہ ہھتیار ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں لگتا کہ پاکستان کی فوج کو اس کا علم نہ ہو۔ پاکستان فوج نے اس الزام کی تردید کی کہ انہوں نے لائن آف کنڑول پر فائر بندی کے معاہدے کی کوئی خلاف ورزی کی۔ البتہ پاکستان فوج نے الزام عائد کیا کہ ہندوستان کی فوج نے فائر بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہوئے کشمیر کے اس علاقے کے جنوبی ضلع کوٹلی میں مینڈھر سیکڑ میں ان کی چوکی پر فائرنگ کی۔ اٹھارہ جنوری دو ہزار پانچ ہندوستان نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ان کے علاقے میں مارٹر گولے داغے گئے جس کی پاکستان کی فوج نے تردید کی۔ سترہ جنوری دو ہزار پانچ ہندوستانی فوج کے حکام نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کی فوج نے کچھ مسلح عسکریت پسندوں کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہونے میں مدد دینے کے لیے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں بارڈر سیکورٹی فورس کے دو اہلکار زخمی ہوگئے۔ فوج نے کہا کہ بی ایس ایف نے بھی جواب میں فائرنگ کی لیکن پاکستان کی فوج نے ہندوستانی الزامات کو غلط بتایا اور بی ایس ایف پر الزام عائد کیا انہوں نے فائرنگ کی تھی۔ |
اسی بارے میں ’نومینز لینڈ‘ پر بنکروں کی تعمیر29 July, 2008 | پاکستان ’جنگ بندی کا احترام کریں‘29 July, 2008 | پاکستان ایل او سی فائرنگ: بھارت کا الزام30 July, 2008 | انڈیا جھڑپوں کی تحقیقات کی تجویز29 July, 2008 | انڈیا سرحدیں بےمعنی ہونی چاہئیں: انڈیا 05 December, 2006 | انڈیا کنٹرول لائن پر نئے راستوں کی پیشکش17 August, 2006 | انڈیا اعتماد سازی کی نئی تجاویز17 January, 2006 | انڈیا پہلاگروپ ایل او سی کے پار19 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||