BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 August, 2006, 09:28 GMT 14:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنگ بندی ٹوٹنے کے خدشات

لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور ہندوستان کے فوجی افسران
کیا فائر بندی خطرے میں ہے؟ (فائل فوٹو)
گیارہ جولائی کو ممبئی میں ہوئے ہلاکت خیز بم دھماکوں کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو تلخی پیدا ہوگئی تھی اس کے اثرات سرحدوں پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔

کشمیر کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بانٹنے والی سات سو چالیس کلو میٹر لمبی اور چونتیس کلومیٹر چوڑی کنٹرول لائن پر فائر بندی کے باوجود دو ہفتوں کے دوران فائرنگ کے دو واقعات ہوئے، جن میں میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایک خاتون سمیت تین شہری زخمی ہوگئے ہیں۔ کنٹرول لائن پر دونوں ملکوں کی افواج کے مابین فائر بندی کا نفاذ گزشتہ قریب تین سال سے جاری امن کے عمل کا واحد مثبت نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔

 کشمیر کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بانٹنے والی سات سو چالیس کلو میٹر لمبی اور چونتیس کلومیٹر چوڑی کنٹرول لائین پر فائر بندی کے باوجود دو ہفتوں کے دوران فائرنگ کے دو واقعات ہوئے، جن میں میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایک خاتون سمیت تین شہری زخمی ہوگئے ہیں

فائر بندی کے باعث اس سرحدی پٹی کے آس پاس رہنے والے لاکھوں لوگوں کی زندگی آسان ہوگئی اور توپوں و بندوقوں کے دہانے خاموش ہونے کی وجہ سے کھیتی باڑی کرنا بھی ممکن ہو سکا۔

اخباری اطلاعات کے مطابق پچیس اگست کو کنٹرول لائن پر فائرنگ کے واقعے میں ایک خاتون زخمی ہو گئییں۔ مقامی روزنامہ ’گریٹر کشمیر‘ نے پاکستان کی انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے ترجمان کے حوالے سے لکھا ہے کہ چالیس سالہ شمیم اختر اُس وقت زخمی ہوگئیں جب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کنٹرول لائن کے قریب بالا کوٹ سیکٹر میں مخالف سمت سے فائرنگ ہوئی۔ اس رپورٹ کے مطابق یہ خاتون کنٹرول لائن سے صرف تین سو فرلانگ کی دوری پر مویشیوں کے لئے چارہ جمع کر رہی تھیں۔

اس سے قبل پندرہ اگست کو پاکستانی حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ ہندوستانی افواج نے سیز فائر کی خلاف ورزی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس روز ہندوستانی فوج نے مشین گن سے جنوبی پونچھ کے عباس سیکٹر کی طرف گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں تاروتی گاؤں کے رہنے والے دو سگے بھائی شدید طور پر زخمی ہوگئے۔

جموں میں قائم ہندوستانی فوج کی شمالی کمان کے ترجمان برگیڈیئر کٹاریہ نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ فائر بندی کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ واقعات کا حوالہ دیئے بغیر انہوں نے کہا کہ ’سیز فائر ٹھیک ٹھاک ہے، کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔‘

اُنیس سو سینتالیس میں ہندوستان کی تقسیم کے بعد سے اب تک کشمیر کی کنٹرول لائن، جو شملہ سمجھوتہ سے قبل سیز فائر لائن کہلاتی تھی، پر دونوں ملکوں کی فوجیں ایک دوسرے کی جانب گولے برساتی رہی ہیں۔ سالہاسال تک چلنے والی اس کراس بارڈر شیلنگ میں دونوں جانب سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ہزاروں لوگ بے گھر بھی ہوگئے ہیں۔

کالم نگار جاوید صدیقی کا کہنا ہے کہ ’موجودہ امن عمل سے اگر اس کے سوا کچھ بھی نہ نکل آئے کہ کنٹرول لائن پر جنگ بندی قائم رہے تو بھی بڑی بات ہے۔ پہلے بھی امن عمل ہوتے تھے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کنٹرول لائن پر توپوں اور مشین گنوں کے دہانے آگ بھی اگلتے تھے۔ بہت نازک موقع ہے۔ اگر اس بار یہ سیز فائر ٹوٹ گیا تو لاکھوں زندگیاں تباہ ہوجایئں گی۔‘

ہائی کورٹ میں سینیئر ایڈوکیٹ اور تبصرہ نگار سید تصدق حسین اس سلسلے میں زیادہ پُر امید نہیں ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ فائر بندی ٹوٹ جائے گی اور ہندوستان اور پاکستان پھر سے روایتی یعنی تصادم کی راہ پرآیئں گے۔ ان کا کہنا ہے ’ کوئی کرشمہ ہی روک سکتا ہے، ننانوے فی صد امکانات ہیں کہ سیز فائر ٹوٹ جائے گا۔‘

مسٹر حسین کے مطابق ہندوستان کو خدشہ ہے کہ چین کشمیر میں ملیٹنسی کو ہوا دینے کے لیئے پاکستان کی خفیہ امداد کر رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس خفیہ ساز باز کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی صورتحال کا پیشگی تدارک کرنے کے لیئے نئی دلّی تازہ حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے، جس میں سرحدوں پر غیر معمولی نگہداشت بھی شامل ہے ’ہندوستان کی کوشش ہوگی کہ زیر زمین قوتوں سے سرحد پر ہی نپٹا جائے۔‘

سن دو ہزار پانچ میں سرینگر مظفرآباد بس سروس شروع کرنے کے بعد منقسم کنبوں کے لیئے آمد و رفت کی خاطر کنٹرول لائن کے پانچ مقامات پر خصوصی راہ داریاں قائم کی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ کنٹرول لائن کے ذریعہ کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان تجارت کو یقینی بنانے سے متعلق اعتماد سازی کے کئی اقدامات کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ کشمیر کےدونوں حصوں کو آپس میں ملانے والے پل کا نام امن پُل رکھا گیا ہے۔ ان تاریخی اقدامات کے باوجود کئی حلقوں کو خدشہ ہے کہ کنٹرول لائن ایک بار پھر میدان جنگ نہ بن جائے۔

کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ قانون کے پروفیسر ڈاکٹر شیخ شوکت حسین کہتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان براہ راست جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ لیکن وہ مانتے ہیں کہ نئی دّلی اور اسلام آباد باقاعدہ صلح کی ڈگر پر بھی نہیں ہیں۔

ڈاکٹر شوکت کا کہنا ہے، ’نیوکلیائی طاقتوں کے لڑنے کا انداز الگ ہوتا ہے۔ ویت نام اور افغانستان میں جس طرح دو نیوکلیائی قوتیں روس اور امریکہ ایک دوسرے کے خلاف بالواسطہ نبرد آزما رہیں، اسی طرح ہندوستان اور پاکستان بھی کر سکتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کی دُکھتی رگوں کو خوب پہچانتے ہیں۔ کشمیر تو پہلے سے ہی ایک پرابلم ہے۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بھی حالات ابتر ہورہے ہیں۔‘

آمدو رفت بڑھ گئی
پاک انڈیا امن اقدام سے عوامی روابط میں فروغ
ہڑتالیں17سال، 1500 ہڑتالیں
کشمیر: چار سال کاروبار بند مگر معیشت مضبوط
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد