اہم کشمیری شدت پسند گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے زیرِاہتمام کشمیر کی پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے لشکرِطیبہ سے تعلق رکھنے والے ایک اہم شدت پسند کشمیری لیڈر کو گرفتار کر لیا ہے۔ محمد رفیق شیخ جنھیں مدثر بھی کہا جاتا ہے، پولیس کو کشمیر پر حملوں کے 20 سے زیادہ مقدمات میں مطلوب تھے۔ ان مقدمات میں 11 جولائی کے روز بھی سرینگر میں ہونے والے حملے کا مقدمہ بھی شامل ہے۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والا یہ شدت پسند گروپ، کشمیر میں بھارتی حکومت کے خلاف لڑنے والے اہم گروپوں میں سے ایک ہے۔ محمد رفیق شیخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 1999 میں انتہا پسند گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی اور ان کے سر کی قیمت پانچ لاکھ روپے تھی۔ ریاستی پولیس کے سربراہ کوپال شرما نے سِر ینگر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’محمد رفیق شیخ نے کشمیر میں لشکر طیبہ کو منظم کیا اور وہ اس گروپ کے سربراہ ہیں۔ ان کی گرفتای شدت پسندوں کے لیے شدید دھچکہ کا باعث ہے‘۔ پچھلے کئی مہنوں سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر پر بڑی تعداد میں حملے کیے گئے جن کا نشانہ زیادہ تر ریاست جموں کشمیر کی طرف کئی سالوں کے بعد لوٹنے والے سیاح تھے۔ 11 جولاہی کے روز گرنیڈ حملوں میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے جن میں سات سیاح تھے ان کے علاوہ 30 افراد زخمی بھی ہوئے ۔ یہ کشمیر پر اس سال اس طرح کا چوتھا حملہ تھا۔ کشمیر پر انڈیا اور پاکستان دونوں اپنا حق جتاتے ہیں۔ جوہری طاقت کے مالک یہ دونوں ملک آج کل پُر امن بات چیت کے مرحلے سے گزر رہے ہیں لیکن ان کے درمیان کشمیر کا بنیادی مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا۔ | اسی بارے میں کشمیر: دونوں شدت پسند ہلاک17 October, 2003 | صفحۂ اول کشمیر: مسجد پر حملہ09 January, 2004 | صفحۂ اول کشمیر: سات افراد ہلاک 20 February, 2004 | صفحۂ اول لائن آف کنٹرول پر گرفتاریاں31 July, 2004 | صفحۂ اول کشمیر: سولہ افراد ہلاک 06 February, 2004 | صفحۂ اول یورپی یونین کا وفد کشمیر میں22 June, 2004 | صفحۂ اول مشرف و موہن ملاقات پر ردِعمل25 September, 2004 | صفحۂ اول آج کشمیر پر بات چیت ہوگی27 December, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||