BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 October, 2003, 17:30 GMT 22:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: دونوں شدت پسند ہلاک
بھارتی فوجی
وزیراعلی کی رہائش گاہ پر حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں وزیراعلی مفتی سعید کے گھر کے نزدیک دو محافظوں کو ہلاک کرنے والے شدت پسندوں کو بھارتی سیکیورٹی فورسز نے ایک طویل مقابلے کے بعد ہلاک کر دیا ہے۔

دونوں شدت پسندوں نے وزیرِ اعلیٰ کے گھر فائرنگ کرنے کے بعد ایک قریبی شاپنگ سینٹر میں پناہ لے رکھی تھی اور بھارتی سیکیورٹی دستوں پر وہاں سے فائرنگ کر رہے تھے۔

سری نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین کا کہنا ہے کہ بھارتی سیکیورٹی فورس پہلے عمارت میں داخل ہوئی اور ان عسکریت پسندوں کو ڈھونڈنے کے بعد ہلاک کردیا۔ تفصیلات ابھی آ رہی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق رات کو ہی سیکیورٹی اہلکاروں نے چار منزلہ علی جان شاپنگ کمپلیکس کے گرد بارود بچھا دیا تھا لیکن بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بی ایس ایف کا عمارت کو اڑانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ صرف ان شدت پسندوں کو ڈھونڈ رہی تھی۔

رات سے بھارتی سکیورٹی فورس کے سپاہیوں نے مذکورہ عمارت کا محاصرہ کر رکھا تھا اور دونوں جانب سے فائرنگ بھی ہوتی رہی۔

شدت پسندوں نے سکیورٹی اہلکاروں پر عمارت کے اندر سے دستی بم پھینکے جس سے سے بی ایس ایف کے نو سپاہی اور ایک پولیس والا زخمی ہوگیا۔

اس سے قبل وزیراعلی کے گھر پر حملے میں تین سپاہی اور چار شہری زخمی ہوگئے تھے جن میں دو فوٹوگرافر بھی شامل ہیں۔

حملے کے وقت مفتی سیعد گھر پر موجود نہیں تھے تاہم ان کی بیوی اور بیٹی گھر میں ہی تھیں۔

پولیس کے مطابق حملہ گھر پر نہیں ہوا تھا کیونکہ وہ سخت حفاظت میں ہے۔

مفتی سعید اب سری نگر واپس آ گئے ہیں اور انہوں نے آنے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ اس حملے کے بعد بھی امن کے عمل کو پٹڑی سے اترنے نہیں دیا جائے گا۔

اس حملے کی ذمہ داری تین تنظیموں نے قبول کی ہے جن میں سے دو الناصرین اور المنصورین کے نام تو پہلے بھی آتے رہتے ہیں لیکن تیسری تنظیم فرزندانِ ملت کا نام پہلی مرتبہ سنا گیا ہے۔

منصورین کے ایک ترجمان نے سری نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار کو فون کے ذریعے بتایا کہ حملے کا مقصد وزیر اعلیٰ کو قتل کرنا نہیں تھا بلکہ انہیں متنبہ کرنا تھا کہ وہ ’زخموں پر مرحم لگانے‘ کے نام پر کشمریوں کو گمراہ نہ کریں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد