آج کشمیر پر بات چیت ہوگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکٹریوں کے درمیان کشمیر کے تنازعے اور سلامتی کے امور پر اہم مرحلے کے مذاکرات آج ہو رہے ہیں۔ اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس نے بتایا ہے کہ ان مذاکرات میں پورے سال کے دوران ماہرین کی سطح پر سیاچن سے لیکر دونوں ملکوں کے لوگوں کو ملنے والی سفری سہولتوں تک جو بات چیت ہوئی ہے اسکا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ جوہری ہتھیاروں کے معاملات میں اعتماد کی بحالی کے لیے مذاکرات کا بھی جائزہ لیا جائےگا۔ سیکٹری خارجہ کی سطح پر ہونے والی اس بات چیت میں اگلے برس کے لیے مذاکرات کا ایجینڈ بھی طے کیا جائے گا اور بات چیت کی تاریخوں کا بھی فیصلہ ہوگا۔ پاکستان کے خارجہ سیکٹری ریاض کھوکھر اور ان کے بھارتی ہم منصب شیام سرن کے درمیان ہونے والی آج کی ملاقات کچھ عرصے سے جاری امن کے لیے ہونے والی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ دونوں ملکوں کے اعلیٰ اہلکار امن کی کوششوں کے آغاز کے بعد پہلی بار کشمیر کے مسئلے پر رسمی طور پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ تعلقات کے فروغ کے لیے دونوں سیکٹری اعتماد کی بحالی کے اقدامات پر بھی بات چیت کریں گے۔ گزشتہ ہفتے پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے کشمیر کے متنازع مسئلے پر بھارت کے موقف پر تنقید کی تھی۔ بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ کشمیر کی سرحدی حیثیت تبدیل نہیں کی جائے گی تاہم وہ بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے پر تیار ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||