BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 November, 2004, 12:42 GMT 17:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بات چیت مثبت رہی: شوکت عزیز

News image
پاکستان ایران سے گیس پائپ لائن پاکستان تک لانے کی کوشش کرےگا
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے ہندوستان کا اپنا دوروزہ دورہ مکمل کرلیا ہے۔انہوں نے دلی میں اپنے قیام کےدوران ہندوستانی قیادت سے کشمیر سمیت باہمی امور کے تمام پہلوؤں پر مفصل بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے مسٹر سنگھ سے اپنی ملاقات کو انتہائی کارآمد اور مفید قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بات چیت میں سبھی پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا، اعتماد سازی کے اقدامات کا ذکر ہوا، سری نگر مظفرآباد بس سروس شروع کرنے کے سوال پر بات چیت ہوئی اور اقتصادی شعبے میں اشتراک و تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

مسٹر عزیز نے کشمیر کے تنازعے کو دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ اسکے بارے میں ہندوستانی قیادت سے انکی مثبت بات چیت ہوئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کشمیر سے متعلق صدر مشرف کی تجویز پاکستان میں اندرونی بحث مباحثے کے لیے مخصوص تھی اس لیے یہ تجویز مسٹر سنگھ کو نہیں پیش کی گئی ہے البتہ اسکے مختلف پہلوؤں کا ذکر ضرور آیا۔

انہوں نے بتایا کہ کمپوژٹ ڈائیلاگ کی موجودہ حالت کا جائزہ لیا گیا ہے اور یہ طے کیا گیا کہ مزاکرات کے عمل کو تیز کیا جاۓ۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ملکوں کے خارجہ سکریٹریزی آئندہ ماہ کے اوائل میں ملاقات کر یں گے۔

مسٹر شوکت عزیز نے حریت کانفرنس کا ذکر کرتے ہوۓ کہا کہ وہ کشمیر تنازعے کا ایک اہم پہلو ہیں اور حریت کے رہنماؤں سے انکی کل کی بات چیت سے انہیں انکا موقف سمجھنے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سری نگر مظفر آباد بس شروع کرنے میں جو تکنیکی دشواریاں ہیں وہ دوستانہ طریقے سے حل کرلی جائیں گی۔

پاکستان کے وزیراعظم نے مزید بتایا کہ ایران سے گیس پائپ لائن پروجیکٹ کے سوال پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی ضرورت پاکستان اور ہندوستان دونوں ہی کو ہے اور پائپ لائن سے دونوں ہی کو فائدہ پہنچے گا۔

یہ واضح نہیں ہوسکا کہ بات چیت میں کتنی پیش رفت ہوئی ہے لیکن مسٹر عزیز نے بتایا کہ ہندوستان کو دلچسپی ہو یا نہ ہو اب خود پاکستان ایران سے گیس پائپ لائن پاکستان تک لانے کی کوشش کریگا۔

ہندوستان نے بھی بات چیت کو مثبت قرار دیا ہے۔ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوۓ ہندوستان کے خارجہ سکریٹری شیام سرن نے کہا کہ کشمیر سمیت تمام پہلوؤں پر بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کشمیر کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان کا اس سلسلے میں اپنا مستقل موقف ہے اور اس موقف کا اظہار وزیراعظم شوکت عزیز سے بات چیت کے دوران کیا گیا ہے۔

مسٹر سرن نے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام امن کے خواہاں ہیں اور اس پس منظر میں امن کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے کمپوژٹ ڈائیلاگ کو مزید تیز تر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد